خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 236 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 236

خطبات طاہر جلد 16 236 خطبہ جمعہ 28 / مارچ 1997ء کثرت اعداد کا کوئی سوال نہیں ہے۔اگر دماغوں کی کیفیت ایک جیسی ہو تو کروڑ بھی ہوں وہ وہی فیصلہ کریں گے۔ایک دماغ کی کیفیت اعلیٰ درجے کی ہو تو وہ ان کروڑوں کے مقابل پر اگر اعداد و شمار ہوں گے تو وہ صحیح فیصلہ کرے گا اور اس کا فیصلہ غالب ہوگا، اعلیٰ درجے کا ہوگا ، یہ مضمون ہے جو بیان ہوا ہے کہ ضرورت تو اور معنوں میں ہے تو سہی مگر ان معنوں میں نہیں کہ اگر ان سے مشورہ نہیں کرے گا تو خدا تعالیٰ تجھے صحیح فیصلوں کی توفیق ہی نہیں بخشے گا۔مشورہ کرے گا تو بہت سی ایسی باتیں تیرے علم میں آجائیں گی جو عام حالات میں تیرے علم میں نہیں تھیں۔ایک مضمون کے مختلف پہلو تیرے سامنے کھل جائیں گے پھر فیصلہ تیرا ہے پھر ان کا فیصلہ نہیں۔جو کچھ انہوں نے کہنا ہے کہہ دیں، تیرے حضور حاضر کردیں، پھر اگر ان کا فیصلہ وہی ہو جو تیرا ہے تو ان کے فیصلے کے طور پر اسے احسان سے قبول کر لیا کر۔یہ بھی ایک حسن خلق کا وہی پہلو ہے جس سے ان آیات کا آغاز ہوا ہے۔لِنتَ لَهُم مراد یہ ہے کہ اگر آنحضرت ﷺ کا فیصلہ وہی ہو جو ان سب مشیروں کا فیصلہ تھا تو یہ کہ کر قبول فرما لیا کر کہ ہم تمہارے مشورے کو منظور کرتے ہیں اور یہ احسان کے طور پر ہے فرض کے طور پر نہیں۔جہاں تیرا فیصلہ الگ ہو وہاں تیرا فیصلہ چلے گا ان کے مشورے کام نہیں آئیں گے ان کی کوئی حقیقت نہیں ہوگی۔صلى الله۔اور یہی طرز عمل ہے حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کا جو تمام عمر آپ نے اسی طرح اختیار فرمایا۔مشورہ کیا ہر چھوٹے بڑے سے اور مشورے میں یہ بات پیش نظر رکھی کہ مشورے کی صلاحیت ہے تو اس سے مشورہ کیا جائے اور چونکہ ہر کام میں ہر شخص کو صلاحیت نہیں ہوتی اس لئے بعض مواقع پر بعض خاص لوگوں کو بلوایا ، ان سے مشورہ کیا بعض کاموں پر کسی اور کو بلالیا لیکن اس قسم کی مجلس شوری جیسا کہ اب رواج ہے قانونی حساب سے اور باقاعدہ ڈیما کریسی کے طریق پر ووٹ کر کے یہ وہاں اس وقت رائج نہیں تھا۔یہ وقت کے پھیلے ہوئے تقاضوں کے نتیجے میں بنا ہے مگر بنیادی چیز وہی ہے جو حضرت محمد رسول اللہ اللہ کی طرز شور کی تھی۔اور یاد رکھیں کہ یہ مجلس شوری جو آج منعقد ہو رہی ہے پاکستان میں یہ ایک ہی مجلس شوری نہیں ہے جس پر خلیفہ وقت بنا کرتا ہے یا جس سے خلیفہ وقت فائدہ اٹھاتا ہے۔آنحضرت ﷺ کا مشوره شب و روز ہمیشہ جاری و ساری رہتا تھا، کوئی کام بھی آپ بغیر مشورے کے نہیں کیا کرتے تھے ہر مشورے کے بعد فیصلہ خود فرمایا کرتے تھے۔یہی طریق اب بھی اسی طرح جاری ہے۔آئے دن