خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 229 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 229

خطبات طاہر جلد 16 229 خطبہ جمعہ 28 / مارچ 1997ء نہیں ، ان کو خدمت کہنا ہی حماقت ہے۔پس اس مضمون کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ فکر نہ کریں کہ اس مجلس شوری کے لئے آپ کو کیسے اخلاق کی ضرورت ہے۔ان اخلاق کی طرف توجہ دیں جو روزمرہ دلوں کو کھینچنے والے ہوں خواہ مجلس شوری کے لئے آپ کو بلایا گیا ہویانہ بلایا گیا ہو کیونکہ آنحضرت می صرف مجالس شوریٰ میں تو جلوہ گر نہیں ہوا کرتے تھے۔جو زندگی کا ایک ایسا حصہ تھا جو جدا ہو ہی نہیں سکتا تھا ہر حالت میں وہ اسی طرح جلوہ گر ہوئے ہیں۔عروسة پس یہ وہ بنیادی پیغام ہے جسے مجالس شوری میں شامل ہونے والے احمدی خوش نصیبوں کو ہمیشہ یادرکھنا چاہئے۔ووٹ کی خاطر بھی اخلاق نہیں بنانے۔اگر یہ تاثر دے کر کہ تم منتخب ہونے کے حقدار ہو اور اہلیت رکھتے ہو، لوگوں سے چاپلوسی کی باتیں کرو گے، نرمی کی گفتگو کرو گے تو تمہارا حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کے اخلاق سے دور کا بھی تعلق نہیں۔اس نتیجے میں اگر تم مجلس شوری کے ممبر چنے جاؤ گے تو اس ممبر کی خدا کے نزدیک کوئی بھی حیثیت نہیں محض دکھاوے کے لئے آئے اور اپنا جلوہ دکھا کر واپس چلے جاؤ گے اور نہ تمہاری ذات کو کوئی فائدہ پہنچے گا، نہ جماعت کو کوئی فائدہ پہنچے گا۔جماعت کو ایسے صاحب اخلاق لوگوں کی ضرورت ہے جو ہر حال میں بنی نوع انسان کے لئے نرم گوشے رکھتے ہوں اپنوں کے لئے بھی اور غیروں کے لئے بھی ، بدکلامی ان کے قریب تک نہ آئے اور دل کی سختی سے نا آشنا ہوں۔خوبصورت گفتگو، احسن کلام اور نرم دلی سے ہر طرف نگاہ کرنا ان کی فطرت ہو اور اگر یہ فطرت نہیں ہے تو اسے بنانے کی کوشش کرو یہ وہ دوسری ضروری بات ہے جس کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے۔بعض لوگ طبعا سخت دل ہوتے ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو خدا تعالیٰ یہ نہ فرماتا وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ مگر ساتھ یہ فرمانا فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللهِ اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ اگر طبیعتا کوئی بچہ سخت بھی ہو تو اللہ کی رحمت اس کو نرم کر سکتی ہے۔پس آنحضرت ﷺ کوتو پیدا ہی اسی طرح کیا گیا مگر وہ جو مزاج کی سختی رکھتے ہیں اگر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکیں اور آنحضرت علی کی محبت اور پیار کی وجہ سے آپ جیسا بننا چاہیں یعنی اصل تو خدا ہی کی محبت ہے مگر جو نمونہ سامنے ہے وہ دکھائی دیتا ہے، وہ قریب کا نمونہ ہوتا ہے انسان ایسا بننے کی کوشش کرتا ہے ورنہ ہمیں کیا پتا لگتا ہے کہ اللہ کیسا ہے۔اگر ہم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو خدا کی صفات دکھاتے ہوئے نہ دیکھتے تو ہمیں