خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 216
خطبات طاہر جلد 16 216 خطبہ جمعہ 21 / مارچ 1997ء نیو یارک وغیرہ میں روزمرہ کی بات ہے کہ کسی عورت کے ہاتھ میں بہت قیمتی گھڑی ہے اس کی کلائی میں یا سونے کا کڑا پہنا ہوا ہے تو اس نے تیز دھار کا آلہ مارا اور ہاتھ بھی کٹ گیا اور کڑ اکھل کے زمین پر گرا اور وہ اٹھا کے بھاگ گیا یعنی ایک کڑے کی خاطر یا ایک گھڑی کی خاطر ہاتھ کا شنا ان کے لئے کچھ بھی نہیں، کوئی برائی بھی دکھائی نہیں دیتی تو عدو مبین ہوا کہ نہیں شیطان۔جو معاشرے کو ایسے ایسے ظلموں سے بھر دے وہ تمہارا دوست کیسے ہو گیا اور جب یہ ظلم پھیلتے ہیں تو جگہ جگہ چوری ڈا کہ اور اس کے نتیجے میں لوٹ مار، رستوں پر کھڑے ہو کر ڈاکے ڈالنا اور پھر جتنے مظالم ہوتے ہیں یہ دکھائی دے رہے ہیں معاشرہ بیچ رہا ہوتا ہے کہ یہ ظالم ہیں لیکن اسی معاشرے میں وہ شیطان کے دوست بس رہے ہیں جوان شیطانی صفات کے نتیجے میں معاشرے کو دکھ عطا کر رہا ہے اور ہر شخص اگر اس مقام پر آجائے جہاں اس کو حاصل ہو جائے کچھ تو وہاں دھوکے سے کام لینے میں کوئی بھی تردد نہیں کرے گا خواہ وہ پیسے دے کر عدالتوں سے اپنے حق میں جھوٹے فیصلے لے یا بچے چرا کر فیصلے لے ، ہر ظلم ہی کی ایک قسم ہے جو شیطان کی دوستی کے مظاہر ہیں اور جب ساری سوسائٹی اولیاء الشیطان بن چکی ہو تو وہاں سے خیر کی کیا توقع ہوسکتی ہے۔اور ربوبیت کا مضمون جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے سب سے اہم اور سب سے زیادہ وسیع طور پر انسانی زندگی پہ پھیلا پڑا ہے۔چھوٹے بڑے امیر غریب سارے ممالک اس میں ملوث ہیں۔تمام انسان اس میں ملوث ہیں، اگر احمدی بھی ملوث ہو گئے تو یہ لوگ بچیں گے کیسے۔یہ سوال ہے جو میں اٹھانا چاہتا ہوں۔ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی (دیوان غالب : 336) وہ ہم سے بھی زیادہ خستہ، تیغ ستم نکلے پھر تو یہ حال ہے جو آپ پر صادق آئے گا۔غالب کا یہ شعر کہ جن سے ہمیں توقع تھی کہ خستگی کی داد پائیں گے وہ تو ہم سے بھی زیادہ خستہ نکلے تو پھر تو دنیا اسے یہ کہے گی کہ تم سے ہم امیدیں لگائے بیٹھے تھے کہ تم ہمیں بچاؤ گے تم تو خود غیر اللہ کی عبادت کر رہے ہو۔جب تمہارا اپنا رزق پاک صاف نہیں رہا تو بنی نوع انسان کے رزق کو کیسے پاک صاف کرو گے اور جب یہ حال ہوگا پھر اللہ آپ کا رب بنے گا کیسے؟۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ شیطان کو رب قبول کر لو اور اللہ رب بن جائے اور اللہ رب