خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 211 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 211

خطبات طاہر جلد 16 211 خطبہ جمعہ 21 / مارچ 1997ء کہ کس کے خیالات کس طرف جا رہے ہیں مگر خاموشی سے بیٹھیں تو مجلس میں خیالات از خود منتقل ہوتے ہیں اور کسی ظاہری سائنسی ذریعے سے ان کے انتقال کو ثابت نہیں کیا جاسکتا مگر ہوتے ضرور ہیں۔پس صحبت شیطان کی اگر براہ راست نہ پہچانی جا سکے تو اس کے اولیاء سے پہچانی جائے گی جو شیطان کے اولیاء ہیں وہ ویسا رنگ اختیار کرتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاء الله (یونس : 63) مخاطب کر کے ان کی صفات بیان فرمائیں جو خدا کے ولی ہیں۔تو اللہ کے ولی اپنی صفات سے پہچانے جاتے ہیں۔ان کے رنگ بدل جاتے ہیں، ان کا اٹھنا بیٹھنا مختلف ہو جاتا ہے، ان کی چال ڈھال الگ ہو جاتی ہے۔یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ کا ولی ہو اور ایک بدکردار انسان اور دونوں میں فرق نہ پتا لگے؟ پس خدا تعالیٰ نے لفظ اولیاء میں اس شیطان کو سمجھنے کی چابی رکھ دی۔ایک طرف فرما یاوہ دکھائی نہیں دیتا۔پھر فرمایا اس سے بچ کے رہو۔اب انسان کہے گا جو دکھائی ہی نہیں دیتا ہمیں پتا ہی کچھ نہیں بچھیں کس طرح تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ اولیاء بن کر تمہارے پاس آئے گا تمہارا ولی بن کے آئے گا اور جو بھی شیطانی بات کرے گا شیطان کا ولی بنے گا، وہ پہچانا جاتا ہے کیونکہ ولی کے اندر اس کی صفات ظاہر ہوتی ہیں۔اب اللہ کے ولیوں سے آپ کو خدا کی شناخت تو ہوتی ہے مگر ان کی ذات میں خدا تو نہیں ہوتا، صفات جلوہ گر ہو جاتی ہیں۔پس لازماً شیطان کے اولیاء میں شیطان کی صفات جلوہ گر ہو جاتی ہیں وہاں وہ دکھائی دینا چاہئے اور دکھائی دیتا ہے۔پس ایسے لوگوں سے پر ہیز اور اپنے تعلقات کی حفاظت کرنا، نہ ایسے لوگوں کو گھروں میں آنے دیں، نہ ان کے گھروں میں جائیں ، نہ ان سے مجلسیں لگائیں جن کی باتوں میں آپ کو کوئی بھی دین کے خلاف بو آتی ہو جن میں اللہ اور اس کے رسول کا احترام نہ ہو۔چنانچہ قرآن کریم نے ایسے لوگوں کی مجالس کا ذکر کر کے فرمایا ہے کہ جہاں دین سے مذاق ہو رہا ہو وہاں سے اٹھ جایا کرو لیکن فرمایا کہ اگر دوبارہ جاؤ اور پھر تمہیں یہ محسوس ہو کہ تمہارے دل پر کوئی زنگ لگا ہے تو پھر کلیہ ان سے تعلق کاٹ لو۔عارضی علیحدگی ابتداء کے لئے ہے جب عارضی علیحدگی کے بعد وہ دوسری باتوں میں مصروف ہوں اور پھر تم ان کے پاس جاکے بیٹھ جاؤ اور ان کی بد کرداری میں فرق نہ آئے اور تمہیں یہ خطرہ محسوس ہو کہ تم ان کا اثر قبول کرنے لگے ہو تو پھر تم پر لازم ہے کہ ان سے کلیہ تعلق کاٹ اور نہ تم بالکل ان جیسے ہو جاؤ گے۔پس یہ اولیاء الشیطین کو پہچاننے کے طریقے قرآن کریم نے نہ صرف اس آیت میں جس کا میں نے حوالہ دیا ہے بلکہ اور آیات میں بھی