خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 210
خطبات طاہر جلد 16 210 خطبہ جمعہ 21 / مارچ 1997ء قومیں اس رستے پر چلتی ہیں تو از ما نقصان اٹھاتی ہیں۔پس پہچانیں یا نہ پہچانیں کہ کس کی تحریص اور تحریک پر ہم ان رستوں پر چل رہے تھے مگر اس کا بد نتیجہ ضرور دیکھ لیتی ہیں تو تضاد نہیں ہے بلکہ مضمون کے بعض مختلف پہلوؤں کو مد نظر رکھ کر نصیحت فرمائی جارہی ہے وہ مختلف پہلو ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں۔پس اس کا، شیطان کا عدو مبین ہونا اس طرح دکھائی دیتا ہے کہ جب بھی آپ اس کی پیروی کریں اس کے نتیجے میں فساد برپا ہو جاتا ہے اور اس عدو مبین کی پیروی کیوں کرتے ہیں جبکہ خدا فرما رہا ہے وہ تمہیں وہاں سے دیکھ رہا ہے جو تم اس کو دیکھ نہیں سکتے۔وہ کون سا طریق ہے اس کا جس کے نتیجے میں تم اس کو پہچان نہیں سکتے۔فرمایا إِنَّا جَعَلْنَا الشَّيْطِيْنَ أَوْلِيَاءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ۔شیطان دوست بن کر آتا ہے اور جو دوست بن کر آئے جس کے دوستوں کے زمرے میں تم داخل ہو، جس کو تم اپنے دوستوں کے زمرے میں داخل کر لو اس کو تم پہچان نہیں سکتے پھر۔اس لئے شیطان اور شیطانی صفات کے لوگوں سے دوستی کرنا انتہائی مہلک چیز ہے پھر تمہیں شیطان کے شر سے آگا ہی نہیں ہوگی اور وہ تم پر حملہ کر دے گا۔ایک تو یہ بات کھل گئی کہ شیطان تو نظر نہیں آتا مگر شیطان کے اولیاء اپنے بداعمال، بد کرداری کی وجہ سے دکھائی دے دیتے ہیں۔اپنے اولیاء میں وہ ظاہر ہوتا ہے اس لئے پیشتر اس کے کہ تم اس کے اولیاء میں داخل ہو جاؤ اس کے اولیاء کو پہچانو اور ان سے پر ہیز کرو اپنی مجلسوں کی حفاظت کرو، بدکردار لوگوں سے دور بھا گو۔خدا کے خلاف بدزبانیاں اور بدتمیزیاں کرنے والوں کو اپنی مجلس میں کوئی راہ نہ دو۔ان لوگوں سے تو بہ کرو تو پھر تم خدا کی عبادت کے قریب تر ہو سکتے ہو۔ایک موقع پر کالج کے طالب علم تھے ، حضرت خلیفتہ المسیح الاول سے یہ گزارش کی کہ میرے دل میں دہریت کے خیالات پیدا ہوتے ہیں اور میں مقابلہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں، دباتا ہوں لیکن وہ دیتے نہیں۔آپ نے فرمایا تمہارا کوئی ساتھی ایسا ہے جو د ہر یہ ہے اس سے کنارہ کشی اختیار کرو۔کیونکہ بعض دفعہ وہ کہتا بھی نہیں مگر اس کے دل کے خیالات دوسرے انسان کے دل میں منتقل ہو جاتے ہیں، نمازی اگر ساتھ کھڑا ہوا کچھ اور سوچ رہا ہے تو نماز پڑھنے والے کی نماز کی توجہ میں فرق پڑے گا اور یہ ایک تجربہ شدہ حقیقت ہے، یہ کوئی تو ہمات سے تعلق رکھنے والی بات نہیں ہے۔جس مجلس میں آپ بیٹھتے ہیں وہاں خیالات از خود ایک دوسرے کی طرف منتقل ہو رہے ہوتے ہیں گو تعین سے نہیں کہا جاسکتا