خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 209 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 209

خطبات طاہر جلد 16 209 خطبہ جمعہ 21 مارچ 1997ء ہیں ان میں دوطرفہ عہد ہے تم یہ کرو تو میں یہ کروں گا۔ایک عہد ہوتا ہے جو ایک غالب اور مقتدرہستی اپنے ماتحتوں سے لیتی ہے اور اس میں دو طرفہ عہد کی شقیں نہیں ہوتیں۔تم مجھ سے وعدہ کرو کہ آئندہ یہ کام نہیں کرو گے، جب آپ یہ کہیں کسی بچے کو اور اس کو مجبور کریں کہ وہ آپ سے یہ عہد کرے تو یہ أَعْهَدُ إِلَيْكُم والا مضمون ہے۔چنانچہ حضرت امام راغب لکھتے ہیں کہ یہ مضمون اس طرح کا ہے کہ کسی پر عہد فرض کر دینا اور اس کی حفاظت کی تلقین کرنا (المفردات فی غریب القرآن زیر لفظ عهد ) تو فرمایا کہ ہم نے کیا ہمیشہ سے تم پر یہ عہد فرض نہیں کر دیا تھا اور لازم نہیں کر دیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہیں کرنی۔اگر تم اس کی عبادت کرو گے تو اِيَّاكَ نَعْبُدُ کا تعلق ہم سے کٹ جائے گا۔پس اب پہچاننے کے طریقے کیا ہمارے سامنے آئے۔اب دنیا میں جہاں جہاں بھی شیطان کی عبادت ہورہی ہے یا غیر اللہ کو مالک سمجھنے کے نتیجے میں ہورہی ہے غیر اللہ سے چار صفات کھینچ لیں تو آپ کی جوتی کی نوک بھی اس وجود کو سجدے نہیں کرے گی کیونکہ ہر سجدہ ایک منفعت کو چاہتا ہے ہر عبادت کے نتیجے میں کچھ حاصل ہوتا ہے اور جہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے نتیجے میں صراط مستقیم نصیب ہوتی ہے وہاں شیطان کی عبادت کے نتیجے میں الضّالِّينَ کا مقدر ملتا ہے۔یہ باتیں ساری ان آیات میں اپنے اپنے مقام پر رکھ دی گئی ہیں اور جب آپ ان کو کھول کر پڑھتے ہیں تو حیرت انگیز اس میں ایک ربط ہے، اس مضمون میں ایک تسلسل ہے، ایک گہرائی ہے اور ایک بات کو سمجھنے سے دوسری بات از خود سمجھ آنے لگتی ہے۔پس اس پہلو سے میں اس آیت کے بعض دوسرے پہلو آپ کے سامنے کھولتا ہوں۔کیا میں نے تم سے یہ عہد نہیں لیا تھا یا تم پر یہ عہد فرض نہیں کر دیا تھا لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَنَ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ وہ تمہارا کھلا کھلا دشمن ہے۔اب سب سے پہلے یہ دیکھنے والی بات ہے کہ شیطان کو ایک جگہ تو یہ فرمایا گیا ہے کہ وہ کھلا کھلا دشمن ہے اور دوسری جگہ یہ فرمایا گیا کہ اِنَّهُ يَريكُمْ هُوَ وَ قَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ إِنَّا جَعَلْنَا الشَّيطِيْنَ أَوْلِيَاء لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ (الاعراف:28) کہ شیطان تو ایسا ہے کہ وہ تمہیں وہاں وہاں سے دیکھ کر تم پر حملے کرتا ہے جہاں جہاں سے تم اسے دیکھ نہیں سکتے۔تو کھلا کھلا کیسے ہو گیا۔شیطان کھلا کھلا دکھائی دینے والا نہیں لیکن اس کی دشمنی ضرور تمہیں دکھائی دے جائے گی، یہ وہ مضمون ہے عَدُوٌّ مُّبِينٌ ہونا اس کا ثابت ہے جن رستوں سے خدا تعالیٰ تمہیں روک رہا ہے جب