خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 207
خطبات طاہر جلد 16 207 خطبہ جمعہ 21 مارچ 1997ء نہ ہو تو کوئی دوا فائدہ نہیں دیتی۔بعض زہر کھائے جائیں تو اس کے نتیجے میں تریاق کی تلاش بے کار ہوگی۔اگر آپ زہر کھائیں اور کھاتے رہیں تو تریاق بھی بے کار ہوگا۔تو یہ جو آیات ہیں یہ اس زہر سے تعلق رکھتی ہیں جس کے ہوتے ہوئے خدا کی رحمت کا تریاق آپ سے کھینچ لیا جائے گا وہ آپ کو عطا ہی نہیں ہوگا۔اور عجیب بات ہے کہ ان آیات کا بھی درحقیقت تعلق سورہ فاتحہ ہی سے ہے جہاں رحمانیت کے مضمون کو خوب کھول کر پیش فرمایا گیا ہے، عبادت کے مضمون کو خوب کھول کر پیش فرمایا گیا ہے۔اور اس بات کو سمجھنے کے نتیجے میں آپ کو بہت سی ایسی باتیں سمجھ آجائیں گی جن کے نتیجے میں آپ شیطان کی عبادت سے بچ سکتے ہیں ورنہ یہ کہہ دینا کہ شیطان کی عبادت سے بچو اور اس کا تفصیلی طریقہ نہ سمجھانا یہ اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو بہت سی جگہوں پر کھولا ہے کہ شیطان کی عبادت ہوتی کیا ہے، کیسے اس سے بچنا ہے۔مگر اس جگہ سورہ فاتحہ کے حوالے سے اس بات کو کھول کر بیان فرمایا گیا ہے یعنی بظاہر یہ اشارے ہیں لیکن ہر اشارے میں کھلے مضمون شامل ہیں۔اب دیکھ لیں آپ اس کا سورۃ فاتحہ سے تعلق و آنِ اعْبُدُونِي هَذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمُ (يس: 62) - اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ تو ایک ایک بیچ کا لفظ چھوڑ دیا گیا اور سورۃ فاتحہ کے اہم ایسے الفاظ استعمال کئے گئے جو آپ کا ذہن لازماً سورۃ فاتحہ کے رستے پر ڈال دیں۔الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے بعد مغضوب کا لفظ چھوڑ کے پھر الضَّالِّينَ کا لفظ استعمال فرما دیا گیا۔وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلا كَثِيرًا۔تو یہ عجیب اللہ کی شان ہے کہ جگہ جگہ وہ نشان راہ مقرر فرماتا چلا جاتا ہے۔تفصیل کے ساتھ سورۃ فاتحہ کونہیں دہرایا گیا مگر اتنے قطعی نشان دے دیئے ہیں سورہ فاتحہ کے کہ کسی انسان کا دماغ اس رستے سے بہک سکتا ہی نہیں۔پس اِيَّاكَ نَعْبُدُ سے شروع ہو کر الضالین تک کے مضامین کے حوالے دے کر آپ کو بتایا گیا ہے کہ شیطان کی عبادت کرو گے تو یہ نعمتیں تمہیں نصیب نہیں ہو سکیں گی۔اس کی بچی عبادت، صراط مستقیم اور ضالین کی لعنت سے بچنے کی جو نعمتیں ہیں یہ تمہیں نصیب نہیں ہو سکتیں۔اب یہ تو نشان دہی ہو گئی مگر آگے شیطان کو پہچاننے والی باتیں یا اس کی عبادت سے بچنے کے طریق کہاں گئے۔وہ دراصل اس سے پہلے جو مضمون ہے سورۃ فاتحہ کا ، اس میں بیان ہوئے ہیں اور اس طرف یہ