خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 199
خطبات طاہر جلد 16 199 خطبہ جمعہ 14 / مارچ 1997ء نہیں کہہ سکتے کہ اس دوا نے فائدہ نہیں دیا اس میں شفا تھی ہی نہیں۔کئی ایسے مریض ہیں جو مجھے لکھتے ہیں کہ جی ہم نے اتنے دن کھائی ہے ان کو میں بتاتا ہوں کہ آپ کی بیماری ایسی ہے کہ ایک سال، دو سال کھانی پڑے گی یعنی دوا فوراً اثر نہیں دکھائے گی بعضوں کو میں کہتا ہوں ایک مہینہ کھاؤ پھر بتانا اور اگر میری تشخیص درست ہو تو مہینے والوں کی دوا مہینے کے بعد ضرور اثر دکھاتی ہے پھر وہ لکھتے ہیں ہاں اچانک ہم ٹھیک ہو گئے ، اور سالوں والی دعا سالوں میں اثر دکھا دیتی ہے۔بعض عورتیں بچے کی خواہش لے کر آتی ہیں دعا کے لئے بھی اور دوا کے لئے بھی تو دوا جب میں دیتا ہوں تو بعض کہتی ہیں جی دو مہینے ہو گئے ہیں ابھی تک تو کچھ بھی نہیں ہوا۔میں ان سے کہتا ہوں کہ دو مہینے کی بات نہیں ہے بعض دفعہ یہ دوا دو سال، تین سال بھی کھانی پڑتی ہے مگر کھاتی چلی جائیں کیونکہ ہر بیماری کی تبدیلی کے اندر اس کا وقت لکھا ہوا ہوتا ہے یعنی جو چیزیں آہستہ آہستہ آکر خلیوں میں بیٹھ جائیں، جسم کی بناوٹ کو تبدیل کر دیں، رحم کے او پر کچھ ایسی پیڑیاں جم جائیں جو اس کے بچے کے پیدا ہونے کے رستے میں ایک دیوار بن کر حائل ہوں تو کوئی تیزاب ڈال کے تو نہیں آپ گھول سکتے ان پیڑیوں کو۔آہستہ آہستہ جسم میں ایک رد عمل پیدا ہوتا ہے، صحت مند خون چلتا ہے پھر وہ رفتہ رفتہ دور ہونے لگ جاتی ہیں۔تو جب دنیا کی بیماریوں کا یہ حال ہے تو اخلاقی اور روحانی بیماریوں کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔بعض لوگ فوراً شفا پانہیں سکتے مگر جو صبر نہیں رکھتا نہ وہ دنیا کی بیماریوں سے شفا پا سکتا ہے، نہ روحانی بیماریوں سے شفا پا سکتا ہے تو ایسا کامل نسخہ ہے قرآن کریم کہ اس کے ہر نسخے کے اندر ہر احتیاط کا پہلو ہر تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔کوئی پہلو نہیں چھوڑا گیا۔تو یہ دعا سکھا کر کہ ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کر ہمیں اور اولاد کی طرف سے بھی ہم ٹھنڈ پائیں ایک دوسرے سے بھی ٹھنڈ پائیں، فرمایا، تمہیں بالا خانے تو ملیں گے مگر اس وجہ سے ملیں گے بِمَا صَبَرُوا۔یعنی ان لوگوں کو ، ان دعا کرنے والوں کو جو جزا ملے گی اس لئے کہ اس دعا کے ساتھ صبر بھی شامل تھا اور صبر میں دو مضمون ہیں ایک یہ کہ دعا کے ساتھ ایک دکھ کی لذت بھی شامل تھی یعنی خشک مونہہ سے دعائیں نہیں کیا کرتے تھے۔صبر کے ساتھ دکھ کا ایک لازمی تعلق ہے ورنہ صبر کا معنی ہی کوئی نہیں اگر ویسے آرام کی زندگی ہے تو اسے صبر کون کہہ سکتا ہے تو فرمایا ان کو جو جزا ملے گی اس لئے کہ ان کی دعاؤں میں ایک دکھ تھا اور صبر کرتے تھے دو باتوں میں۔ایک تو یہ کہ ہم پر توکل میں صبر