خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 196
خطبات طاہر جلد 16 196 خطبہ جمعہ 14 / مارچ 1997ء کبھی چندے بڑھا کے خوش کریں۔تو یہ توجہ ہوگی تو یہ تحفہ بنے گا ورنہ تحفہ نہیں بنے گا۔پس جنت میں تحفوں کا یہ مطلب ہے اور جنت میں سلام کا یہ مطلب ہے۔اتنا پیار ہوگا آپس میں کہ بے ضرورت جس کو دے رہے ہیں اس کو ضرورت کوئی نہیں آپ کا دل چاہتا ہے آپ دیں اور جب اس طرح کوئی چیز ملے تو اس کی لذت بہت بڑھ جایا کرتی ہے۔پس جنت کی لذتیں بڑھانے کا ایک مضمون ہے جو بیان کیا جا رہا ہے جو اس دنیا کی لذتیں بھی اسی طرح بڑھاتا ہے۔جس سوسائٹی میں تحائف چلتے ہیں جو تحفہ دیتا ہے وہ اپنی طرف سے کچھ کمی محسوس کرتا ہے اس کو اپنی طرف سے کمی محسوس کرنی چاہئے اس کی چیز کم ہوئی ہے مگر کرتا نہیں کیونکہ جس چیز کی زیادہ قدر ہے وہ اس معمولی چیز کے بدلے اسے مل جاتی ہے۔اس کے دل کو محبت کی پیاس ہوتی ہے اصل میں اور تحفہ اگر محبت حاصل نہ کرے تو تحفہ چلتا ہی نہیں گھر سے۔اسی لئے ضروری سمجھا جاتا ہے کہ جس کو تحفہ دیا جائے اس کو بتایا ضرور جائے۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو اخفاء ہے اس کی حکمت اور ہے اگر اللہ تعالیٰ کو بھی پتا نہ چلے تو کوئی بھی انسان نیکی نہیں کرسکتا۔کیا ضرورت ہے خواہ مخواہ اپنی چیز کو انسان یونہی پھینک دے۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں اخفاء کی اس لئے ضرورت ہے کہ اللہ جانتا ہے اور اگر محبوب کو تحفہ دیا جائے اس طرح کہ اور کسی کو خبر نہ ہو محبوب ہی کو پتا چلے تو اس کی جتنی قیمت اس تھے کی مل سکتی ہے اتنی کسی اور تھنے کی نہیں مل سکتی۔پس اللہ تعالی یہ محبتیں چاہتا ہے آپ سے کہ تھے پیش کرو تو کبھی اس طرح پیش کیا کرو کہ خدا کے سوا کسی کو پتا ہی نہ چلے اور یہ جو مخفی تحائف ہیں یہ زیادہ اعلیٰ درجے کے تحائف ہیں۔تو اس دنیا میں یعنی جنت میں جو تحائف چلیں گے وہ نہ صرف دینے والوں کے لئے لذت کے سامان پیدا کریں گے بلکہ لینے والا وہ چیزیں عام ہونے کے باوجود انہی سے مزے اٹھائے گا جو تحفے کے طور پر اس کو پیش ہورہی ہیں۔کبھی کھانے کے دوران کئی دفعہ تجربہ ہوتا ہے ایک بچے کو کوئی چیز آپ اپنی پلیٹ سے دیدیں تو اسے سنبھال کے الگ رکھتا ہے۔کوئی اور اس سے لینے لگے تو کہے گا یہ لو، یہ نہیں میں نے دینی ، یہ مجھے فلاں نے دی ہے، تو تحفوں سے کھانا تو وہی رہتا ہے، مزہ بڑھ جاتا ہے۔پس یہ مزے ہیں جو جنت میں بیان کئے جارہے ہیں کہ گھروں میں یہ پیدا کرو گے تو وہاں بہت بڑھ کر ملیں گے۔اگر گھروں میں پیدا نہیں ہوں گے تو وہاں کچھ بھی نہیں ملے گا۔جن گھروں میں