خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 197 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 197

خطبات طاہر جلد 16 197 خطبہ جمعہ 14 / مارچ 1997ء ہر وقت تو تکار، ایک دوسرے کو گالیاں دی جارہی ہیں، فساد برپا ہیں، ایک دوسرے کی شکل دیکھ کر طبیعت میں گھبراہٹ پیدا ہو جاتی ہے اور کہتا ہے کیا مصیبت دیکھ رہے ہیں ہم۔بعض دفعہ بعض میاں واقعہ عورت کو کہتے ہیں واپس آکر گھر میں کہ آج تیرا منحوس منہ دیکھ کر گئے تھے ناباہر، دیکھو کہ یہ ہوا اور اگر عورت بیچاری مار سے نہ ڈرے تو کہہ دیتی ہے کہ تیرا منحوس چہرہ دیکھا تو میرے ساتھ بھی یہی ہوا ہے۔جن کے آپس کے تعلقات یہ ہو جائیں ان کو نہ ایک دوسرے سے ٹھنڈک، نہ اپنی اولاد سے ٹھنڈک ، وہ یہ دعا کیسے کریں گے، یہ سوال ہے۔حرکتیں یہ ہوں اور دعائیں یہ ہوں۔رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا - لیکن ایک اور بات اس دعا سے تعلق میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ کئی گھروں کی اصلاح میں اس دعانے مجھے بہت کام دیا ہے۔بعض بیویاں جو بہت ہی تکلیف میں تھیں، شکایت کرتی تھیں کہ ہماری طرف توجہ نہیں ہے ، ہم ہر کوشش کر چکی ہیں مگر کوئی پرواہ نہیں۔ان کو میں نے کہا یہ دعا سنجیدگی کے ساتھ ، با قاعدہ لگ کر کرو اور یقین رکھو کہ اس کا سننے والا ہے۔جو دل تمہارے اختیار میں نہیں وہ خدا کے اختیار میں ہے۔کر کے دیکھو پھر مجھے بتاؤ۔ہر دفعہ تو نہیں کیونکہ بعض دفعہ وہ اگلا انسان ہی بد نصیب ہوتا ہے۔دعا جس کے حق میں ہو اس کے لئے بھی اس کا کچھ استحقاق ہونا ضروری ہے۔جس شخص کے حق میں دعا کی جائے اگر وہ مستحق نہ ہو تو دعا کرنے والا خواہ کتنا ہی بزرگ اور پہنچا ہوا کیوں نہ ہو اس کے حق میں قبول نہیں ہوتی۔صلى الله چنانچہ آنحضرت یہ تمام کفار مکہ ،تمام مشرکین ،سب دنیا کے لئے دعائیں کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ کس بے قراری سے کرتے ہیں مگر فرماتا تھا کہ ہدایت اسی کو دوں گا جس کو میں سمجھتا ہوں مستحق ہے۔دوعمروں میں سے آپ نے ایک مانگا اور حضرت عمرؓ مل گئے اور ابو جہل نہ ملا اس لئے کہ وہ مستحق نہیں تھا۔پس یہ دعا ہر عورت کی قبول نہیں ہوتی۔اگر خاوند بدنصیب ہو جائے کہ خدا کی نظر میں گیا گزرا ہے تو پھر بے چاری آخر پہ یہی دعا کر سکتی ہے کہ اے خدا مجھے اس ظالم سے نجات دے اور جنت میں مجھے گھر عطا کر، اس کے سوا چارہ کوئی نہیں۔مگر بسا اوقات میں نے یہ دیکھا ہے کہ بعض عورتیں بے حد خوشی اور شکریہ کا خط لکھتی ہیں کہ جس طرح آپ نے نسخہ بتایا تھا اسی طرح استعمال کیا ہے پورا دل لگا کر ، خدا کو حاضر و ناظر جان کر ، اس پر اعتماد کرتے ہوئے ، پورا بھروسہ کرتے ہوئے دعا