خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 188
خطبات طاہر جلد 16 188 خطبہ جمعہ 14 / مارچ 1997ء اگر بغیر اس تیاری کے اس دعا میں داخل ہوں گے تو یہ دعا کچھ بھی حقیقت نہیں رکھے گی۔پہلے جھوٹ سے نفرت، غیر اللہ سے نظریں پھیرنا اور اپنی خواہشات کو اللہ تعالیٰ کی طرف مائل کرنا، یہ جب چیزیں پیدا ہوں تو پھر دل سے یہ دعا نکلے گی تو اور زیادہ گہرے معنے لے کر اٹھے گی۔هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ ہمیں اپنی بیویوں یا اپنے خاوندوں اور اپنی اولا د سے وہ آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب کر جس کے نتیجے میں نیک اولادیں پیدا ہوتی ہیں اور یہ دو مضمون ایک دوسرے سے اس طرح باندھے جاتے ہیں کہ آنکھوں کی ٹھنڈک کی تفصیل بیان فرما دی۔ہمیں اپنی بیویوں سے یا اپنے خاوندوں سے یا اولاد سے مل کر بیٹھنے میں جو خوشیاں محسوس ہوتی ہیں وہ نہ ہوں جب تک یہ یقین نہ ہو کہ اولاد نیک ہوگی جب تک یہ نہ یقین ہو جائے کہ یہ تقی پیدا ہورہے ہوں اس وقت تک ہمیں ان کے ساتھ بیٹھنے، تعلقات میں کوئی مزہ ہی نہ آئے یہ وہ دعا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیشہ مانگی ہے اور اسی طریق پہ مانگی ہے۔ے یہ ہو میں دیکھ لوں تقویٰ سبھی کا جب آوے وقت میری واپسی کا ( در متین اردو : 48) یہ بارہا میں آپ کے سامنے بیان کر چکا ہوں لیکن اتنی اہم بات ہے کہ جتنی دفعہ بھی بیان کی جائے یہ پرانی نہیں ہو سکتی یہ تمنا، مرتے وقت کی آخری تمنا ہو کہ میں اپنی اولا د کا تقویٰ دیکھ جاؤں بہت عظیم بات ہے اور یہی دعا ہے جو یہ بیان فرمارہی ہے کہ وہ اللہ کے حضور یہ مانگتے ہیں کہ ہمیں آنکھوں کی ٹھنڈک دے۔مگر آنکھوں کی ٹھنڈک سے مراد یہ نہیں کہ ملنے جلنے کی دلچسپیوں تک ہی وہ ٹھنڈک رہے، وہ تو ہر کا فر کو بھی ملتی ہے بلکہ کا فر زیادہ اس کی جستجو کرتا ہے لیکن اس کی تفصیل بیان فرما دی۔واجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا ایسی نسلیں پیچھے چھوڑ کے جائیں جو متقی ہوں اور متقیوں کا امام بننے کا ہی مزہ ہے ورنہ تو امامت کوئی بھی حقیقت نہیں رکھتی۔اگر متبع گندے ہوں تو اس امامت کا کیا فائدہ۔خواہ کروڑوں اربوں بھی ہوں تو جو گندوں کا امام ہے وہ گندوں ہی کا امام رہے گا بلکہ زیادہ گندے ہوں گے تو اور بھی زیادہ بے ہودہ امام بنے گا۔اس لئے لازم ہے کہ متبعین متقی ہوں اور اولادیں متقی ہوں اور جتنی زیادہ متقی ہوں گی اتنا امامت کا مرتبہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔