خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 187 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 187

خطبات طاہر جلد 16 187 خطبہ جمعہ 14 / مارچ 1997ء اندھوں اور بہروں کی طرح آیات سے سلوک نہیں کرتے۔پس ایک طرف وہ ہیں جن کے دل جھوٹ سے باندھے گئے ہیں جب آیات ان پر پڑھی جاتی ہیں ان کی آنکھیں اندھی ہو جاتی ہیں ان کے کان بہرے ہو جاتے ہیں اور ایک وہ ہیں جو اپنی آنکھیں اور اپنے کانوں کو لغویات سے پھیر لیتے ہیں ان میں دلچسپی کوئی نہیں رہتی۔مگر کچھ تو سننا ہے کچھ تو دلچسپی کے سامان کرنے ہیں جہاں ذکر الہی چلے وہاں ان کی آنکھیں چمک اٹھتی ہیں ان کے کانوں میں توجہ پیدا ہوتی ہے۔کہتے ہیں اچھا! کیا کہا تھا آپ نے ہمیں بھی سنائیں یہ بات تو دلچسپیاں رخ بدلتی ہیں ، دلچسپیاں مٹ نہیں جایا کرتیں اور پھر یہ اتنی بڑھ جاتی ہیں نیکیوں میں دلچسپیاں لَا يَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلهَا أَخَرَ (الفرقان: (69) جیسا پہلے ذکر کیا گیا ہے اسی مضمون کو خدا آگے بڑھا دیتا ہے کہ وہ کلیۂ خدا کے ہو جاتے ہیں ہر خواہش اس سے طلب کرتے ہیں ، ہر لذت اسی سے چاہتے ہیں یہاں تک کہ اپنے دنیاوی تعلقات کی لذتیں جو عام لوگوں کو براہ راست ملتی ہیں وہ خدا کے حوالے سے لیتے ہیں، یہ عبادت کا ایک عظیم مقام ہے۔تو کہتے ہیں وَالَّذِيْنَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ اے ہمارے رب ہمیں اپنی بیویوں میں یا اپنے خاوندوں میں اور اپنی اولاد میں وہ لذتیں عطا کر کہ ہم ان کے غیر سے بے نیاز ہو جائیں۔آنحضرت مہ نے فرمایا کہ اگر تم اپنی بیوی کے منہ میں اس وجہ سے لقمہ ڈالتے ہو کہ اللہ کو پسند ہے تو لقمہ ڈالنے کا مزہ تو ویسے بھی آنا تھا مگر اب دوہرا مزہ آئے گا۔ایک محبوب نہیں دو محبوب جیت لو گے اور جو محبوب حقیقی ہے وہ بھی ساتھ جیتا جائے اور روزمرہ کی زندگی کی ایک طبعی خواہش بھی پوری ہو جائے اس سے بہتر اور کیا سودا ہوسکتا ہے۔تو ایک مضمون اس میں یہ ہے کہ اپنی ازواج سے اور اپنی اولاد سے وہ طبعی لذتیں جو حاصل کرتے ہیں وہ اللہ کے حوالے سے حاصل کرتے ہیں اور اللہ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور دعا کرتے ہیں۔وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ اِمَامًا اے اللہ! ہمیں متقیوں کا امام بنا۔اب یہ آیت آج کل کے زمانے میں بہت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ عائلی مسائل کی خرابیاں اور بہت سی باتوں میں اپنی اولاد کی تربیت سے بے اعتنائی اس آیت کے مضمون سے غفلت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔پس اس دعا سے پہلے جو تیاری ہے وہ ضروری ہے