خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 186 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 186

خطبات طاہر جلد 16 186 خطبہ جمعہ 14 / مارچ 1997ء بات بیان ہونی ہے اس کا پہلے سے تعلق جوڑنے کے لئے کچھ آخری دو آیات کے ساتھ دوبارہ مضمون کو باندھنا ہوگا۔وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزَّوْرَ وہ لوگ جو رحمن خدا کے بندے ہیں ان کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ جھوٹ کا منہ تک نہیں دیکھتے۔وَاِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا اور لغو چیزوں سے ان کا اجتناب در اصل اسی وجہ سے ہوتا ہے کیونکہ لغو جھوٹ ہوتا ہے۔پس تمام لہو ولعب، جتنی بھی لغو باتیں ہیں بنیادی طور پر چونکہ وہ جھوٹ ہیں اس لئے جھوٹ سے اجتناب کے نتیجے میں لغو سے ان کی دلچسپی از خود کم ہونے لگتی ہے جب کہ دوسروں کی زندگی کا مقصد لغو چیزیں ہیں وہ سرسری نظر سے ان کو دیکھتے ہیں اور کوئی دلچسپی نہیں لیتے۔وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا اب یہ جو بیان ہے بہت ہی عظیم بیان ہے کہ جب وہ دلچسپی نہیں لیتے تو حقارت کی نظر سے بھی نہیں دیکھتے ، ان لوگوں پر اپنی کوئی برتری بھی نہیں ثابت کرتے ، عزت اور بے نیازی کے ساتھ گزرجاتے ہیں یعنی کئی لوگ بعض دفعہ بیٹھے تاش کھیل رہے ہیں، کوئی فضول باتیں اور کر رہے ہیں کہیں جو اچل رہا ہے، مومن کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر جگہ کھڑا ہو اور ان سے جھگڑا شروع کر دے اور کہے دیکھو میں تو نہیں کرتا تم ایسا کرتے ہو۔ان کے جو گزرنے کی طرز ہے وہی پیغام دے دیتی ہے۔ان کے اندر عزت اور احترام کا ایک مقام ہے جس کو وہ اپنی چال سے ظاہر کرتے ہیں ، سرسری نظر ڈالتے ہوئے اس طرح گزرتے ہیں جیسے ان کا ان باتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔پس یہ وہ لوگ ہیں جو جھوٹ سے نفرت کے نتیجے میں از خود اس قسم کی صفات ظاہر کرنے لگتے ہیں ان دونوں چیزوں کا بہت گہرا تعلق ہے۔جتنا جھوٹ سے تعلق ہوگا اتنا لغو سے تعلق ہوگا۔جتنا جھوٹ سے بے نیازی ہوگی اتنا لغو سے بے نیازی ہوتی چلی جائے گی اور جب ایک چیز سے بے نیازی ہو تو انسانی فطرت مرتو نہیں جایا کرتی اس کی ضرورت تو اپنی جگہ باقی رہتی ہے۔انسانی فطرت اس خلاء کو بھرنا چاہتی ہے جو ہر انسان کے دل میں ہے کہ میں کچھ حاصل کروں، تسکین قلب کا سامان ہو۔وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِايَتِ رَبِّهِمْ ان کی توجہ لغو سے بہتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی آیات کی طرف ہوتی ہے محض خالی نہیں ہو جاتے بلکہ بہتر چیز اس کی جگہ لے لیتی ہے۔اس لئے جب آیات ان پر پڑھی جائیں تو ان کی آنکھیں چمک اٹھتی ہیں ، وہ