خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 180 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 180

خطبات طاہر جلد 16 180 خطبہ جمعہ 7 / مارچ 1997ء اجازت ہی نہیں دیتا کہ تم مقتل سے باز آ جاؤ۔خدا نے حکم دیا ہے کہ ایسے شخص کو قتل کرنا ہے تو لاز ماقتل کرنا پڑے گا ، اپنے دل کی بات نہیں دیکھنی ہوگی ، یہ عِبَادُ الرَّحْمٰن ہیں۔وَلَا يَزْنُونَ اور وہ موت کے تعلق میں بھی اسی طرح انصاف سے کام لیتے ہیں جیسے زندگی کی پیدائش کے تعلق میں۔اب عام طور پر لوگ سمجھتے نہیں کہ یہاں يَزْنُونَ کا کیا مطلب ہو گیا اچانک قتل کی باتیں ہو رہی ہیں اور زنا نہیں کرتے قتل سے جان لی جاتی ہے اور قتل ناحق وہ ہے جہاں آپ کو اجازت نہیں اور آپ نے جان لے لی اور زنا کے ذریعے زندگی پیدا کی جاتی ہے اور وہ زندگی پیدا کی جاتی ہے جس کے پیدا کرنے کا آپ کو حق نہیں ہے تو آپ محی بھی بن جاتے ہیں ممیت بھی ہو جاتے ہیں۔جس طرح اللہ کی صفات ہیں کہ وہ زندہ کرتا ہے اور وہ مارتا ہے آپ دونوں صفات پر قابض ہو بیٹھتے ہیں اور اس کا بھی شرک سے تعلق ہے۔وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ الها اخر جو خدا کی چیزیں ہیں وہ خدا کو دیتے ہیں اپنے ہاتھ میں نہیں لے لیتے۔پس موت کا اختیار خدا کو ہے کوئی اور نہیں ہے جو کسی کی موت کا فیصلہ کر سکے۔پیدا کرنے کا اختیار خدا کے ہاتھ میں ہے کسی کو حق نہیں ہے کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر پیدا کرے۔اور یہ خدا کے وہ بندے ہیں جو قتل بھی حق کے ساتھ کرتے ہیں اور پیدا بھی حق ہی کے ساتھ کرتے ہیں۔تو یہ مضمون ہے زنا نہیں کرتے ، جس کے نتیجے میں لازماً پھر ایسے مواقع پیدا ہو جاتے ہیں۔فرمایا وَ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ يَلْقَ اناما اور جو یہ باتیں کرے جو اوپر بیان کی گئی ہیں تو بہت بڑا گناہ کمانے والا ہے اور اس کا نتیجہ دیکھ لے گا۔يَلْقَ أَثَامًا کا مطلب یہ ہے اس نے بہت بڑا گناہ کمایا اور اس گناہ کا بد نتیجہ وہ دیکھ لے گا اس کے لئے عذاب آئے گا اس کے پیچھے، عذاب اسی کو دیا جائے گا اور تُضْعَفْ لَهُ الْعَذَابُ۔عذاب میں بڑھا دیا جائے گا کیونکہ عام گناہوں کے مقابل پر یہ جو گناہ ، شرک کا گناہ اور زندگی اور موت کے معاملے میں خدا کی ملکیت میں دخل اندازی یہ تمام تینوں چیزیں مل کر اتنا بڑا گناہ بن جاتی ہیں کہ فرمایا يَلْقَ أَثَامًا بہت بڑے گناہ کو پہنچے گا اور اس کے عذاب کو دیکھے گا اور ایسے شخص کا عذاب بڑھایا جائے گا اور اس میں وہ چھوڑ دیا جائے گا ذلیل اور خوار ہو کر۔یعنی اس کو پھر پوچھا بھی نہیں جائے گا کہ تم کس حالت میں ہو۔يُضْعَفُ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَيَخْلُدْ فِيْهِ مُهَانًا وہ اس میں لمبے عرصے