خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 175 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 175

خطبات طاہر جلد 16 175 خطبہ جمعہ 7 / مارچ 1997ء مقصد دے، دور فرما دے اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا بہت بڑی تباہی ہے جہنم کا عذاب تو ایسی چٹی ہے جس کے بوجھ تلے ہم پیسے جائیں گے۔پس اس مضمون کا تعلق بھی ایک طرف عجز سے ہے دوسری طرف اس حقیقت سے کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ بار بار اٹھائے جائیں گے۔ان کا کامل ایمان ہوتا ہے مر کر دوبارہ اٹھنے پر اور اگر مر کر اٹھنے پر ایمان نہ ہو تو دنیا میں وہ اصلاحات جو عِبَادُ الرَّحْمٰن سے توقع کی جاتی ہیں وہ ان کو نصیب نہیں ہو سکتیں۔یہ مرکزی نقطہ ہے اس مضمون کا کہ تم آخرت پر ایمان رکھو اور یقین جانو کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے گا۔پس محض ایک منطقی عقلی رستہ نہیں ہے جو خدا تک پہنچائے گا بعض ٹھوس حقائق ہیں جو پیش نظر ہوں تو پھر تمہارا خدا کی طرف سفر آسان ہو جائے گا۔ایک سفر کا جو مد ہے وہ کسی اچھی چیز کو حاصل کرنا ہوتا ہے اور ایک سفر کا مقصد کسی بری چیز سے بچنا ہے تو یہ دونوں محرکات قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں۔اس لئے ہر نبی کو بَشِيرًا وَنَذِيرًا، بَشِيرًا وَنَذِيرًا فرماتا چلا جا رہا ہے، بَشِيرًا وَنَذِيرًا (البقره: 120) کہ وہ انسان کے اندر دونوں جذ بے یعنی حرص کا جذ بہ طمع کا جذبہ، کچھ حاصل کرنے کا جذبہ ان کو بھی پیش نظر رکھتے ہیں نصیحت کے وقت اور خوف کا جذبہ۔یہ ڈر کہ ہم کسی مصیبت میں مبتلا نہ ہو جائیں، عزت کے جذبے کو بھی پیش نظر رکھتے ہیں۔تو فرمایا یہ لوگ رحمن خدا سے محبت اور تعلق رکھتے ہوئے اس کے سامنے جھکتے ہیں مگر خوف بھی رکھتے ہیں کہ اگر ہم سے کوئی کوتاہی ہوئی تو پھر قیامت کے دن ہم سے پوچھا جائے گا، ہمارا حساب کتاب ہوگا۔پس وہ لوگ جو خدا تعالیٰ سے تعلق کو اور ان رستوں پر قدم مارنے کو مشکل سمجھتے ہیں ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ یوم آخرت پر یقین کے بڑھنے کے ساتھ یہ مشکل آسان ہو جاتی ہے کیونکہ وہ شخص جو شیر کو دیکھ لے یا کسی اور خوفناک جانور کو دیکھ لے وہ اس سے دوڑتا ہے اور تھکا ہارا بھی ہو، یہ کہہ کر بیٹھ رہا ہو کہ اب تو مجھ سے ایک قدم نہیں اٹھایا جاتا، شیر دیکھے گا تو وہیں قدم ہلکے ہو جائیں گے اس قدر تیزی سے دوڑ پڑتا ہے بعض دفعہ که آدمی حیران رہ جاتا ہے۔تو جو خفی طاقتیں ہیں انسان کی ، جود بی ہوئی ہیں جن کو عام حالتوں میں انسان استعمال میں نہیں لاتا خوف کے نتیجے میں وہ ایک دم بیدار ہو جایا کرتی ہیں۔طمع کے نتیجے میں بھی ہوتی ہیں مگر خوف کے نتیجے میں ان میں Panic آجاتی ہے ہراساں ہو کر وہ دوڑتے ہیں۔پس فرمایا جہنم کا خیال ان کے اعمال کو صحت بخشتا ہے، ان کے اعمال کی بہترین تشکیل کرتا ہے وہ ہر اس چیز سے بچیں گے جس سے ان کو خطرہ ہو کہ وہ جہنم میں داخل کئے جاسکتے ہیں۔