خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 176
خطبات طاہر جلد 16 176 خطبہ جمعہ 7 / مارچ 1997ء تو یہ جو منفی پہلو خوف کا ہے یہ بھی عِبَادُ الرَّحْمن بننے کے لئے لازم ہے کہ پیش نظر رہے اور جتنا یقین ہوگا اس حقیقت پر کہ ہماری جواب طلبی ہوگی اتنا ہی گناہ سے خوف آنے لگے گا خواہ وہ کتنے ہی خوبصورت دکھائی کیوں نہ دیں۔ایسے درخت جو بہت ہی خوبصورت اور دلکش ہوتے ہیں لیکن کانٹے دار ہوتے ہیں آپ ہاتھ بڑھا کر ان کا پھول نہیں تو ڑنا چاہتے کیونکہ ادھر ہاتھ بڑھایا ادھر زخمی ہو گیا لیکن جہاں پھول بھی زہر یلے ہوں یا جانور ہو جو سانپ کی طرح زہریلا اور خواہ کیسا ہی خوبصورت رنگوں میں بنا ہوا ہو آپ اس کی طرف ہاتھ نہیں بڑھا سکتے۔تو گناہ کی حقیقت اگر اس کے عذاب کے حوالے سے معلوم کی جائے پھر انسان کے لئے اس سے بچنا آسان ہو جاتا ہے۔اگر کسی گناہ کے ساتھ لطف کا تعلق ذہن میں آپ باندھے رہیں اور اس کے عذاب کا پہلو نظر انداز کر دیں تو پھر گناہ پر دلیری ہوگی۔اس لئے خدا تعالیٰ نے فوری طور پر یہاں مضمون کے شروع ہی میں بیان فرما دیا کہ جو خدا کے حضور اٹھتے ہیں، گریہ وزاری کرتے ہیں، جھکتے ہیں تو اس میں صرف محبت کا پہلو نہیں رہتا کیونکہ محبت کے پہلو کے نتیجے میں بعض دفعہ انسان دلیر بھی ہو جایا کرتا ہے۔کرم ہائے تو ما را کرد گستاخ اپنے محبوب کو ایک شاعر کہتا ہے کہ تیرے کرموں نے تو ہمیں گستاخ بنادیا ہے۔تو اتنا مہربان ہے کہ پکڑتا ہی نہیں تو اس کے نتیجے میں گستاخی ہو جاتی ہے۔بچے جن کو لمبی ڈھیل دی جائے جس سے محبت ہی کی جائے اور ان کو ناراضگی کا خوف کبھی دامن گیر ہی نہ ہو، پتا ہی نہ ہو کہ یہ کیا ہوتی ہے، بڑے بدتمیز اور آزاد ہو جاتے ہیں اور من مانی کرتے پھرتے ہیں پھر ساری زندگی ان کی بر باد رہتی ہے۔تو طمع اور خوف یہ دو پہلو لازماً انسانی تربیت کے لئے دو پہیوں کی طرح ہیں ایک پیسے کو نکال دیں تو ایک پیسے پر گاڑی چل نہیں سکتی۔پس قرآن کریم فرماتا ہے وہ اٹھتے ہیں محبت سے مگر اپنا مقام سمجھتے ہیں۔جانتے ہیں کہ جس سے ہم محبت کر رہے ہیں اس میں پکڑنے کی بھی طاقت ہے۔وہ آیت جو میں نے پہلے آپ کے سامنے رکھی تھی اس میں اِنَّهُ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيمُ (يوسف: 90) کے ساتھ خدا تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے: اَوْ تَقُولَ حِينَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِي كَرَّةً فَأَكُونَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ (الزمر: 59) کہ اللہ تعالی گناہ بھی بخشتا ہے اس کا عذاب بھی بڑا سخت ہے، اس کی پکڑ کے تصور سے لوگوں کی جان نکلتی ہے اور وہ کہتے ہیں جب عذاب کو دیکھتے ہیں تب ان کو