خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 173 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 173

خطبات طاہر جلد 16 173 خطبہ جمعہ 7 مارچ 1997ء نے سلام کہہ دیا اور گزر گئے ۔ یہ دونوں باتیں مربوط ہیں۔ عادت میں یہ بات داخل ہو تب یہ بات پیدا ہوتی ہے ورنہ اگر عادت میں یہ بات نہ ہو کہ میں نے خیر ہی پہنچانی ہے تو رستہ چلتے کوئی آوازہ کسے، دیکھیں آپ کیسے الٹ کے اس کا جواب دیں گے۔ ہو ہی نہیں سکتا آپ رک سکیں ۔ یہ خدا تعالیٰ نے انسانی فطرت کے گہرے راز بیان فرمائے ہیں ان کو معمولی کلام نہ سمجھیں ، اپنے نفس پر اس کا اطلاق کر کے دیکھیں اور روزمرہ اپنا امتحان تو لے کے دیکھیں۔ چلتے پھرتے کوئی آوازہ کیسے کیسا غضب سے آپ اس پر پلٹتے ہیں اور بعض دفعہ اس کے نتیجے میں شدید نقصان اٹھا بیٹھتے ہیں، لڑائیاں ہو جاتی ہیں قتل ہو جاتے ہیں۔ یہ عادت جب تک مزاج میں داخل نہ کر لی جائے، ایک قاعدہ کلیہ نہ بن جائے اس وقت تک یہ صفات پیدا نہیں ہوا کرتیں اور اس کا آغاز عجز سے ہوگا۔ اب نیچے آدمی کو اوپر والے کہتے رہتے ہیں کبھی وہ سر نہیں اٹھاتا بے چارہ۔ وہ آنکھیں نیچی کر کے ہر بات برداشت کرتا چلا جاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا عِبَادُ الرَّحْمنِ ہونے کے لحاظ سے تم یہ کرتے ہو۔ اس لئے جتنا ذلیل بنتے ہو اگر اس کی خاطر بنتے ہو تو وہ ضرور تمہیں عزت دے گا اور اپنے بندوں میں شمار کرلے گا۔ پس بندہ اپنی ذات میں تو کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتا کوئی اس کی ملکیت نہیں رہتی مگر مالک طاقتور ہو، مالک عظیم ہو تو پھر دوسروں کی مجال نہیں رہتی کہ اس کی طرف آنکھ اٹھا کے دیکھیں۔ تو فرمایا تم اپنے مالک نہ بنے پھرنا ، اپنے مالک بن کر چلو گے تو اس دنیا میں تمہارا گزارا ہو ہی نہیں سکتا۔ تم سے ہوہی تم زیادہ طاقتور، زیادہ سخت مزاج ، زیادہ ظالم لوگ موجود ہیں اور ساری دنیا کا مقابلہ تم کر ہی نہیں سکتے ۔ ایک ہی طریق ہے غلام بن جاؤ اور جس کے غلام بنو وہ رحمان ہو جس نے کائنات کو پیدا کیا ہے، جس نے قرآن سکھایا۔ اس رحمن کے بندے بنو تو پھر کچھ علامتیں ہیں جو تمہارے اندر ظاہر ہوں گی وہ یہ ہیں کہ تم عاجزی اجزی - کے ساتھ چلو گے، لوگوں کی باتوں کی کچھ پرواہ نہیں کرو گے پھر ۔ صبر سے کام لو گے اور رحمن کی وجہ سے اس میں رحمن کی شان کا پیش نظر رکھنا داخل ہے۔ یہ بتاتا ہے یہ کلام کہ ایرا غیرا کی اولاد اگر بد تمیزی سے بات کرے، بداخلاقی سے پیش آئے تو اس کا نقص وہیں تک رہتا ہے لیکن اگر ایک بڑے عظیم انسان کا بچہ ہو اور وہ ایسی باتیں کرے تو اس کو گزند پہنچتا ہے، لوگ اس پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔ تو پیغام یہ ہے دیکھو رحمان خدا کی عزت کا لحاظ رکھنا ۔ تمہارا اٹھنا بیٹھنا ایسا ہو کہ جس کے نتیجے میں رحمن کی عظمت دلوں پر ظاہر ہو، پتا چلے کہ کتنے عظیم وجود کے یہ بندے ہیں جو پھر رہے ہیں اور وہ تکبر