خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 172 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 172

خطبات طاہر جلد 16 172 خطبہ جمعہ 7 / مارچ 1997ء نفس کو کلیہ ہر قسم کے تکبر سے خالی کرنا ہوگا ور نہ عبد کا مضمون اس پر صادق آہی نہیں سکتا۔اتنا کامل کلام ہے کہ بات کو وہاں سے شروع کیا جو لازماً پہلا دروازہ ہے اس کے بغیر عِبَادُ الرَّحْمٰن کے رستے میں داخل ہو ہی نہیں سکتے۔هَونا پیدا کریں اپنے اندر۔یعنی جھک کر خدا کے حضور عاجزی اختیار کرتے ہوئے سفر اختیار کرنا اور اپنے نفس کو کلیۂ بیچ میں سے مٹاڈالنا اور دوسروں کے لئے شر سے کلیۂ مٹا خالی ہو جائیں کیونکہ وہ شخص جو ہر بات میں اپنے آپ کو عاجز ہی جانتا ہو اس شخص کی یہ علامت لازماً ظاہر ہوا کرتی ہے کہ وہ اپنے چھوٹے بڑے کو سلام ہی کرتا ہے اور ایسے فقیر منش لوگ میں نے دیکھے ہیں کہ وہ کسی سے نہیں الجھتے ، اپنے آپ کو نیچا کہتے ہیں ہم نیچے ہیں ہر آئے گزرے کو سلام کہتے ہیں بس ہماری طرف سے تمہیں سلام پہنچے ہمارا کوئی جھگڑا نہیں تم سے۔تو بنی نوع انسان کے لئے خدا کے بندے بجز کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں اور سلام کے پیغام لیتے ہوئے چلتے ہیں اس لئے قیامت کے دن ان کو بھی یہی سلام کا پیغام ہے جو پہنچایا جائے گا۔پس یہ دو شرطیں ہیں جن سے ہمیں لازماً مزین ہو جانا ، سج جانا چاہئے کامل عجز اور ہر قسم کے شر سے اجتناب۔اب یہ دو شرطیں بھی اتنی مشکل ہیں، جتنی پیاری ہیں اتنی مشکل بھی ہیں یعنی آئے دن روزانہ انسان سے کسی نہ کسی کو اور کوئی نہ کوئی شر پہنچ ہی جاتا ہے، بات چیت میں تو تو ، میں میں ہو جاتی ہے۔دل آزاری کی باتیں منہ سے نکل جاتی ہیں۔اپنی بڑائی کا کوئی کلمہ منہ سے نکل جاتا ہے۔کسی کے اندر کوئی نقص دیکھتے ہیں تو بعض عورتیں تو ہنستی ہیں منہ پر ہاتھ رکھ رکھ کر اور دوسری عورتوں کو اشارے کرتی ہیں کہ وہ دیکھو جی وہ کس قسم کی بھدی چیز ہے فلاں کا بچہ دیکھو، فلاں کی لڑکی دیکھو، فلاں کے کپڑے دیکھو اور وہ مجھتی ہیں کہ کچھ بھی نہیں یہ تو ہم نے ذرا لطف اٹھایا ہے۔مگر قرآن کریم کی یہ آیت بتاتی ہے کہ تم نے اپنے اوپر رحمان کی بندی بننے کے لئے دروازے بند کر دیئے کیونکہ رحمن کے بندوں کی یہ علامت ہے کہ بجز اختیار کرتے ہیں۔جو بجز اختیار کرے وہ تو سب سے نیچا ہوگا اس کو دوسرے کی کمزوری پر بننے کا موقع کیسے ہاتھ آئے گا۔پس ہنسی اپنی جگہ منع نہیں فرمائی مگر تکبر کی بنسی منع فرمائی ہے۔جہاں دوسرے کو آپ نیچا دیکھ کر رعونت کے ساتھ اس کی ایسی کمزوریوں پر ہنستے ہیں جو بسا اوقات اس کے بس میں ہی نہیں ہوا کرتیں اور پھر ایسے آدمی سے کوئی نہ کوئی شرضرور دوسروں کو پہنچتا ہی رہتا ہے۔پس سلام کا یہ مطلب صرف نہیں ہے کہ کسی جاہل نے آپ سے سختی سے بات کی تو آپ