خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 171 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 171

خطبات طاہر جلد 16 171 خطبہ جمعہ 7 / مارچ 1997ء میں بسنے کی کوئی بھی گنجائش باقی نہیں رہتی۔پس کلام الہی اتنا کامل اور اتنی تفصیل سے مضامین کے ہر پہلو کو روشن کرنے والا ہے کہ کسی قسم کا کوئی ابہام باقی نہیں چھوڑتا۔پس بعض اور مضامین بھی اس سے تعلق رکھنے والے ، خدا نے تو فیق دی تو میں بیان کروں گا مگر آج میں عِبَادُ الرحمن کے حوالے سے قرآن کریم کی بیان فرمودہ وہ علامتیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں جن کو دیکھ دیکھ کر آپ نے قدم آگے بڑھانے ہیں۔جیسے مشکل راستوں پر جگہ جگہ نشان لگے ہوتے ہیں، وہ تیر کا نشان ، رخ بتاتا ہے کہ یہ رستہ ہے، وہ رستہ نہیں اور اگر نشان نہ لگے ہوں تو آپ بہکتے بہکتے کہیں سے کہیں پہنچ جائیں گے۔روزمرہ کی ہماری جو خدام الاحمدیہ کی کھیلیں ہوتی ہیں سائیکل ریس ہو یا پیدل لمبا سفر کرنا ہوتو خدام بڑی محنت سے ایک دن پہلے وہ نشان لگا دیتے ہیں اور ذرا آنکھ چوکی اور انسان کسی اور سڑک پر چل پڑا۔تو قرآن کریم اتنا منظم نظام پیش کرتا ہے، حیرت انگیز منظم تعلیم پیش کرتا ہے کہ جگہ جگہ وہ نشان لگے ہوئے ہیں کہ دیکھو یہاں جا کر اس طرف مڑ کر Move کرنا ہے، یہاں سے اس طرف مڑنا ہے قدم بہک نہ جائیں اپنا جائزہ لیتے رہو تم صحیح رستے پر ہو بھی کہ نہیں۔تو وہ جو لمبی سڑک ایک عام انسان کی توبہ سے شروع ہوکر عِبَادُ الرَّحْمنِن تک پہنچا دیتی ہے اس کے یہ نشان ہیں جو قرآن کریم کی ان آیات نے آپ کے سامنے کھولے ہیں اور پہلا نشان اس کا انکساری ہے۔تکبر سے خالی ہو جاتے ہیں اور یہ سب سے پہلے اس لئے رکھا کہ عبد بننے کے لئے تکبر سے کلیۂ نجات لازم ہے کیوں کہ کسی کے سامنے کوئی بھی انسان تکبر رکھتے ہوئے اپنا سر جھکا نہیں سکتا۔اپنی بڑائی کا ادنی بھی تصور ہو تو کسی اور کے سامنے سرخم کرنے کے رستے میں حائل ہو جائے گا۔فرمایا وَ عِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وہ تو بڑی منکسر مزاجی کے ساتھ زمین پر چلتے ہیں۔ان کے قدم رعونت سے نہیں پڑتے بلکہ ہر قدم پر وہ اپنا بجز دیکھ رہے ہوتے ہیں، اپنی کمزوری دیکھ رہے ہوتے ہیں۔وَ إِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَهِلُونَ قَالُوا سَلَمَّا اور جب جاہل لوگ ان سے خطاب کرتے ہیں تو سلام کہتے ہوئے گزر جاتے ہیں ان سے الجھتے نہیں ہیں ان کی بدی کا جواب بدی سے نہیں دیتے بلکہ کہتے ہیں ہماری طرف سے تو سلامتی تمہیں پہنچے گی۔یہ دو بنیادی صفات ہیں جہاں سے رحمانیت کے ساتھ تعلق جوڑنے کا سفر شروع ہوتا ہے۔ہر انسان کو اپنے