خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 166
خطبات طاہر جلد 16 166 خطبہ جمعہ 28 فروری 1997ء ہم نماز جنازہ جمعہ اور عصر کی نماز کے معا بعد ادا کریں گے۔مولانا نذیر احمد صاحب مبشر کی زندگی کے بعض ایسے پہلو ہیں جو اس وقت بھی نشان تھے، آج بھی نشان ہیں۔آپ 1909ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک صحابی حضرت چوہدری غلام حسین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عطا ہوئے۔آپ سے پہلے نو بچے پیدا ہو چکے تھے جو نو کے نو مر گئے ایک بھی نہیں بچا۔حضرت غلام حسین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے رویا میں دکھایا کہ یہ بچہ ہے اس کی شکل دیکھ لو یہ آنے والا ہے اور یہ زندہ رہے گا۔چنانچہ آپ پیدا ہوئے تو آپ نے سب جگہ اعلان کر دیا، بیوی کو بھی بتا دیا بالکل نہ فکر کرنا یہ زندہ رہے گا یہ کبھی نہیں مرسکتا یعنی جس مقصد کے لئے خدا نے عطا کیا ہے اسے پورا کئے بغیر نہیں مرے گا اور پھر اس نشان کو اور زیادہ پختہ بنانے کے لئے بعد میں دو بیٹیاں اور عطا کیں، وہ دونوں بھی مرگئیں۔پہلی اولاد میں سے نو میں سے ایک بھی نہیں بچا، یہ زندہ رہے اور ان کی شکل بھی بالکل وہ بیان فرماتے تھے کہ ایسی ہی تھی ، یہی مجھے بچہ دکھایا گیا تھا۔اور اس کے بعد آپ کی زندگی جو تھی وہ واقعی ایک ایسے بچے کی صورت میں آگے بڑھی ہے جو خدا تعالیٰ کسی خاص مقصد کے لئے پیدا فرما تا اور چن لیتا ہے اسے۔آپ نے 1927ء میں اپنی زندگی وقف کی۔1935ء میں ایک اعلان حضرت نذیر احمد صاحب علی کی طرف سے ہوا جو افریقہ کے مبلغ تھے اور بہت عظیم قربانیاں انہوں نے وہاں خاص طور پر سیرالیون میں بڑی خدمات سرانجام دی ہیں کہ غانا کے لئے ہمیں ایسے ایک واقف زندگی کی ضرورت ہے جو کوئی مطالبے نہ کرے، غالباً حضرت مصلح موعودؓ کے فرمانے پر انہوں نے یہ اعلان کیا ہوگا اپنی طرف سے تو ایسا کرنے والے نہیں تھے، کوئی شرطیں نہ ہوں۔اس وقت یہ آگے آئے اور ان شرطوں میں یہ بھی بات تھی کہ اپنا خود گزارہ کرو، کھاؤ، کماؤ ، جماعت پیسے بھی نہیں بھیج سکتی۔چنانچہ افریقہ میں انہوں نے ایسے سخت آزمائش کے سال دیکھے ہیں کہ مجھے انہوں نے خود بیان کیا تھا کہ مہینوں وہ روٹی یا جو چیز بھی مہیا ہوتی تھی وہاں اس کے ساتھ نمک مرچ کے سوا میں نے کچھ نہیں کھایا لیکن جماعت سے نہیں مانگا۔روانہ ہونے سے پہلے جب آپ کو 1936ء میں خدمت کے لئے بھجوایا گیا ہے تو آپ کی شادی حضرت بھائی جی ڈاکٹر محمود احمد صاحب کی بیٹی آمنہ بیگم سے ہوئی لیکن نکاح ہوا اور پھر گیارہ سال تک غانا میں جدا ر ہے ہیں، مڑ کے خبر نہیں لی۔نہ جماعت کے پاس پیسے تھے کہ ان کو بلاتی۔گیارہ سال