خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 159 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 159

خطبات طاہر جلد 16 159 خطبہ جمعہ 28 فروری 1997ء میں نے تلاوت کی تھی بعینہ وہی بات ہے جو ایک اور رنگ میں سمجھائی جا رہی ہے وہاں آپ نے دیکھا عباد اور جو اسراف کرنے والے ہیں وہ عباد جو اسراف کرنے والے تھے جنہوں نے بہت بڑے بڑے ظلم کئے تھے اور زیادتیاں کی تھیں ان کو فرمایا ہے کہ تم نے خدا کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا کیونکہ وہ غفور رحیم ہے اور طریقہ یہ بتایا آنيبُوا إِلى رَبِّكُمُ اللہ کی طرف جھکو اور اللہ کی محبت کے نتیجے میں اس کی طرف مائل ہو۔اور تیسری آیت میں فرمایا وَ اتَّبِعُوا اَحْسَنَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَّبِّكُمْ کہ تم جو بھی تمہارے رب کی طرف سے تم پر اتارا گیا ہے اس کا بہترین حصہ پکڑا کر واپنے ارادے بلند رکھو، اپنے حو صلے اونچے کرو اور اس بات پر راضی نہ ہوا کرو کہ جو کم سے کم تم سے توقع کی جارہی ہے اتنی ہی پوری کر دو، اونچی تو قعات رکھو پھر تمہارے لئے یہ معاملہ آسان ہوگا مشکل نہیں ہوگا۔اور اس میں بھی ایک بہت ہی گہر ا فطرت کا راز ہے جو بیان فرمایا گیا ہے۔جو لوگ تھوڑے پر راضی ہوں اور تھوڑے پر ہاتھ مارنے کی کوشش کریں ان کے لئے تھوڑے پر قائم رہنا بھی ممکن نہیں ہوا کرتا کیونکہ انسان اپنے ارادے کو ہمیشہ اکثر اوقات پوری طرح مکمل طور پر پورا نہیں کر سکتا۔پس جو شخص یہ کہے کہ میں یہ نہیں کروں گا وہ لوگ اس کم سے کم پر بھی کبھی پورے نہیں ہوا کرتے۔جو بلند ارادے رکھیں ان کا ماحصل اس سے بہت زیادہ ہوتا ہے جو کم ارادے لے کر ایک سفر شروع کرتے ہیں۔چنانچہ بسا اوقات جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے پاس ہونے کی نیت کی تھی مگر جن کی نیت یہ ہو کہ ہم نے اول آنا ہے ریکارڈ توڑنے ہیں ان کو ہم نے دیکھا ہے کہ وہ فرسٹ کلاس بھی لیں تو روتے ہیں کہ ہم صرف سکول میں اول آسکے، ہم نے تو سارے علاقے میں اول آنا تھا۔جو سارے علاقے میں اول آئیں وہ اس بات پہ روتے ہیں کہ یقین تھا کہ ریکارڈ توڑلیں گے مگر نہیں توڑ سکے تو ان کا ماحصل ان کے لئے خوشی کی بجائے اس لئے دکھ کا موجب بنتا ہے کہ جتنی بلند تو قعات تھیں اتنی پورا نہیں کر سکے۔اس راز کو جس طرح خدا نے سمجھایا ہے اس کو سمجھ کر جب انبیاء کی زندگی کا حال دیکھتے ہیں تو ان کی گریہ وزاری کی سمجھ آجاتی ہے۔کتنے بڑے بڑے ارادے لے کر وہ لوگ نکلے تھے اللہ کے تعلق میں ، اس کے حضور اپنا سب کچھ پیش کر دینے میں ، اس کے حضور اپنی روحوں کی گردنوں پر چھریاں پھیر دینے کے لئے ہمیشہ آمادہ اور تیار اور خواہشات یہ کہ آنا فانا ہم وہ انقلاب برپا کر دیں جو عظیم انقلاب