خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 158
خطبات طاہر جلد 16 158 خطبہ جمعہ 28 فروری 1997ء آپ سنتے ہیں ان میں یہ بات بڑی نمایاں طور پر آپ کو دکھائی دیتی ہے کہ مافیا کے جو بڑے بڑے سر براہ ہیں وہ ہر نظام کے خلاف اپنے چیلوں چانٹوں کو بغاوت کے لئے آمادہ کرتے ، اس پر تیار کرتے ، ان کو تحفظ دیتے اور اس طرح وہ نظام کو بالکل بے بس اور بے کار کر کے دکھا دیتے ہیں مگر اپنے متعلق اگر آنکھ میں ادنیٰ سی میل دیکھیں گے تو بلا تردد اس کو مروا دیتے ہیں ذرہ بھی رحم سے کام نہیں لیتے خواہ اپنا عزیز ترین قریبی کیوں نہ ہو باپ بیٹوں کو مروانے میں قطعاً کوئی تردد نہیں کرتے اور یہی مضمون ہے جو قرآن کریم بیان فرما رہا ہے۔کہتا ہے وہ سرکش لوگ جو نظام کے باغی ہوں تم اگر ان کے قریب رہو گے تو لازماً ان کی عبادت کرنی پڑے گی اس کے بغیر تمہارا ان کے ساتھ قرب رہ ہی نہیں سکتا۔ہر ایسے موقع سے دور بھا گو۔جابر کو دور کا سلام اگر ضروری ہو تو اس سے زیادہ اس کے ساتھ کوئی قرب کا تعلق نہ رکھو ورنہ بدصحبت کے بداثرات کی بات نہیں فرمارہا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان کے عباد بنو گے تم ، ان کے عبد بنے بغیر تمہارے لئے چارہ کوئی نہیں ہوگا۔تو ہر ایسی مجلس سے دور بھاگنا اور ہر ایسے حاکم سے پرے ہٹنا جو جابر ہو، ہر وہ شخص جو بغاوت کی تعلیم دینے والا ہو اس سے کنارہ کشی کے بغیر اللہ تعالیٰ کے عباد بنے کی آپ میں صلاحیت ہی پیدا نہیں ہوسکتی۔تو قرآن کریم جو مشکل مضامین بتاتا ہے ان کے رستے بھی دکھاتا ہے بہت بلندی ہے مگر بچنے کے یہ یہ طریقے ہیں بغیر علم کے تم کیسے عبداللہ بن جاؤ گے۔یہ جانو کے فلاں کی عبادت سے بچنا ہے اور وجوہات بیان فرما دیں کیوں بچنا ہے۔اس لئے کہ تمہیں بے اختیار کر دیں گے وہ تم میں طاقت ہی نہیں رہے گی کہ ان کے اثر سے باہر رہ سکو۔پھر فرماتا ہے وَالَّذِينَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ أَنْ يَعْبُدُوهَا وَاَنَا بُوا إِلَى اللهِ پھر ان میں یہ طاقت پیدا ہوگی کہ اللہ کی طرف انابت کریں جب ایک جگہ سے تعلق توڑ بیٹھے اور برائیاں سمجھ آگئیں اور برائیاں سمجھنے کے نتیجے میں دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ خدا کی طرف جھکیں ان کے متعلق فرمایا لَهُمُ الْبُشْرى فَبَشِّرْ عِبَادِ ان کے لئے بہت بڑی خوش خبری ہے، پس میرے بندوں کو خوشخبری دے دو۔الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ (الزمر: 19) وہ لوگ جو بات سنتے ہیں پھر اس میں سے جو بہترین ہے اس پر عمل کرتے ہیں او لَكَ الَّذِينَ هَاهُمُ الله وأوليكَ هُمْ أُولُوا الْأَلْبَابِ ہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ ہدایت عطا فرماتا ہے اور یہی عقل والے لوگ ہیں۔اب آپ دیکھیں کہ جس آیت کی