خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 10
خطبات طاہر جلد 16 10 خطبہ جمعہ 3 /جنوری 1997ء ملنی چاہئے اور حالانکہ یہ غفلت اس کی پیدا کردہ ہے۔اور قرآن کریم جس غفلت کا ذکر فرماتا ہے وہ وہ غفلت ہے جو انسان کی بالا رادہ پیدا کردہ غفلت ہے۔پس اگر تم اپنی غفلت کے معاملے میں نگران نہیں ہوتے اور غفلت کی حالت میں زندگی بسر کرتے ہو تو پھر جو حادثات ہوں گے تم اس کے ذمہ وار ٹھہرائے جاؤ گے۔جب تک ہوش نہ ہو قرآن کریم فرماتا ہے تم نے نماز بھی نہیں پڑھنی۔یہ غفلت کا مضمون ہے جو حیرت انگیز وضاحت اور شان کے ساتھ ایک عظیم روشنی کے ساتھ قرآن کریم ہمارے سامنے پیش فرماتا ہے۔نماز پڑھنا کتنی اچھی بات ہے گر فر مایا اگر تمہیں پوری طرح پتہ نہیں کہ تم کہ کیا رہے ہو تو یہ غفلت کی حالت جو ہے اس کی نماز قبول نہیں ہو سکتی۔اس لئے تم ایسے وقت میں اس غفلت کی حالت میں نماز نہ پڑھو ورنہ ہوسکتا ہے تمہارے منہ سے کوئی کلمہ کفر ہی نکل رہا ہو۔کوئی نا مناسب با تیں تمہارے تصورات کی نماز میں داخل ہو جائیں۔اب یہ جو غفلت کی حالت ہے خاص طور پر اس کو پیش نظر رکھ کر اپنی اکائیوں اور دہائیوں کا حساب تو لے کے دیکھیں۔اگر آپ اس پہلو سے حساب لیتے ہیں جیسے کہ میں نے بیان کیا ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی عمل اللہ اپنے لمحے لمحے پر نگران تھے اور یہ نگرانی اتنی کامل تھی اور اتنی مستقل تھی کہ آپ کو تمام بنی نوع انسان پر شہید بنا دیا گیا۔پہلے شاہد جس کا میں پچھلے خطبے میں ذکر کر چکا ہوں پھر شہید کہ ان کے متعلق آپ کی گواہی مانی جائے گی کیونکہ آپ نے اپنا لمحے لمحے کا حساب لیا ہے اس لئے آپ اس لائق ہیں کہ آپ کی کسوٹی پر دوسرے پر کھے جائیں۔فرمایا جب تمام انبیاء کو قیامت کے دن اپنی اپنی قوموں پر شہید بنا کر لایا جائے گا تو اے اللہ کے رسول تجھے ان تمام انبیاء پر شہید بنا کر لایا جائے گا۔ان کی امتوں کے اعمال نبیوں کے اعمال کی کسوٹی پر پرکھے جائیں گے اور نبیوں کے اعمال تیری کسوٹی پر پر کھے جائیں گے۔یہ وہ رسول ہیں حضرت اقدس محمد مصطفی عمل ہے جن کی غلامی میں ہم نے قدم آگے بڑھانے ہیں اور طریق بھی آپ نے ہمیں سمجھا دیئے اور قرآن نے یہ مضمون خوب کھول دیا کہ غفلت کی حالت میں گزرے ہوئے لمحے تمہارے کسی کام کے نہیں ہیں۔اور وہ جو گناہ پیدا کرتے ہیں ان گناہوں کے تم ذمہ دار قرار دیئے جاؤ گے اور غفلت کی حالت میں اگر نمازیں پڑھنے کی اجازت نہیں۔تو انسان جو