خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 150
خطبات طاہر جلد 16 150 خطبہ جمعہ 28 فروری 1997ء اللہ ﷺ کے غلام بن جائیں گے ان کو وہ نور ایمان اور محبت اور عشق بخشا جائے گا کہ جو ان کو غیر اللہ سے رہائی دے دے گا۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن : 194،193) تو محبت اور عشق کا بخشا جانا یہ غیر اللہ سے رہائی کے لئے ضروری ہے۔یہی وہ مضمون ہے جو میں گزشتہ خطبہ میں بیان کر چکا ہوں اس کے بعض اور پہلو ایسے ہیں جو زیادہ وضاحت کے ساتھ کھولنے والے ہیں۔فرماتے ہیں: اور اسی دنیا میں ایک پاک زندگی ان کو عطا کی جائے گی اور نفسانی جذبات کی تنگ و تاریک قبروں سے وہ نکالے جائیں گے۔نفسانی جذبات کی تنگ و تاریک قبروں سے وہ نکالے جائیں گئے۔دراصل انسان یا اپنے نفس کا غلام اور اپنی خواہشات کا عاشق ہوتا ہے یا اللہ کا اوراللہ کے رسول گا، درمیان میں باقی کوئی اور منزل ہی نہیں ہے۔جو بھی محبوب ہو خدا اور اس کے رسول کے سوا یعنی ان کے مقابل پر وہ سب نفس کی عبادت کرنے کا دوسرا نام ہے۔اس کے سوا اور کوئی حقیقت نہیں اور اس عبادت میں کوئی زندگی نہیں ہے اسی کا نام موت ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو کیسی عمدگی اور قوت کے ساتھ کھولا ہے کہ ” نفسانی جذبات کی تنگ و تاریک قبروں سے وہ نکالے جائیں گے۔اسی کی طرف یہ حدیث اشارہ کرتی ہے انا الحاشر الذي يحشر الناس علی قدمی“ (صحیح البخاری کتاب المناقب باب ما جاء في اسماء رسول الله ) کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں وہ حشر برپا کرنے والا ہوں جس کے قدموں پر لوگ اٹھائے جائیں گے۔فرمایا اسی کی طرف یہ حدیث اشارہ کرتی ہے انسا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمی ( یعنی میرے قدم پر لوگ اٹھائے جائیں گے۔یعنی میں وہ مردوں کو اٹھانے والا ہوں جس کے قدموں پر لوگ اٹھائے جاتے ہیں آئنہ کمالات اسلام روحانی خزائن : 194)۔یعنی اٹھائے جائیں گے کی بجائے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ترجمہ فرمایا ہے اٹھائے جاتے ہیں چونکہ مضارع کے دونوں ترجمے ممکن ہیں، جاتے ہیں، اٹھائے جائیں گے۔تو آپ نے یہ بہت زیادہ پر حکمت ترجمہ فرمایا۔میں نے غلطی سے یہ ترجمہ سرسری طور پر کیا اٹھائے جائیں گئے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ترجمہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس دنیا میں ہی لوگ جو زندہ ہوتے ہیں وہ مردے جو صدیوں سے گڑے ہوئے تھے وہ محمد رسول اللہ ﷺ نے زندہ کر دیئے۔یہ مستقبل کا وعدہ نہیں اس