خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 147 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 147

خطبات طاہر جلد 16 147 خطبہ جمعہ 21 فروری 1997ء نظر دیکھ ہی نہیں رہی ہوتی۔اندھا قانون بعض دفعہ بڑے بڑے ظلم کر جاتا ہے اور بسا اوقات مجرموں پر رحم کر رہا ہوتا ہے کیونکہ اندھے کی تو سوئی چل جائے ، چاہے شریف پر چل جائے چاہے خبیث پر چل جائے اندھے نے تو وار ہی کرنا ہے صرف۔تو یہی حال دنیا کے قوانین کا ہوتا ہے۔ابھی ایک خبر آئی تھی کہ کچھ تین لڑکے بے چارے اٹھارہ سال تک ایک ناکردہ گناہ کے جرم میں قید تنہائی کی مصیبت برداشت کرتے رہے، عذاب برداشت کرتے رہے اور وجہ یہ ہوئی کہ پولیس نے ایک اور مجرم سے ان کے خلاف یہ سمجھتے ہوئے کہ واقعی یہ مجرم تھے ان کے خلاف جھوٹی گواہی بنوائی اور اس کی موت کے بعد جو کا غذات نکلے تو تب جا کے پتا چلا کہ کتنا بڑا ظلم ہو گیا ہے۔اب ایسے ماں باپ یا ان کے رشتہ دار جو زندہ ہوں گے تصور کریں ان کی کیسی دردناک زندگی کئی ہوگی۔جانتے ہیں کہ معصوم ہیں مگر اندھے قانون نے نہیں چھوڑا ان کو اور کئی ایسے گنہ گار ہیں جو بڑے بڑے ظلم کرتے ہیں قانون وہاں تک پہنچتا ہی کچھ نہیں۔پس ایک ہی قانون ہے جو اللہ کا قانون ہے اور اس کے حوالے سے گناہ ختم ہو سکتے ہیں۔گناہوں کی زندگی کٹ سکتی ہے ورنہ نہیں کٹ سکتی ہمیشہ اسی طرح جاری رہے گی۔پس اللہ تعالیٰ نے موت کو جو بار بار پیش فرمایا ہے اس کو غور کریں تو فَفِرُّوا إِلَى اللهِ کے معاملے میں آپ کے لئے آسانی پیدا ہو جائے گی اور یاد رکھیں یہ زندگی اتنی لمبی تو ہے ہی نہیں کہ لمبے تجربے کرتے چلے جائیں۔شروع میں یہ بھی مضمون ہے جلدی کرو کہاں بھٹک رہے ہو، دیر نہ کرو۔کیا پتا کس وقت موت آجائے اس لئے تیزی سے دوڑو اور گناہوں سے نکلنے کی کوشش کرو۔اب یہ گناہوں سے نکلنا تو بہت بڑی بات ہے انسان اپنی بداخلاقیوں سے بھی نہیں نکلتا۔کئی دفعہ میں نے دیکھا ہے کبھی بیوی بد اخلاق ہو اس کو سمجھایا جائے یا خاوند بداخلاق ہواس کو سمجھایا جائے تو ایک دوسرے سے اور بھی زیادہ غصہ کرتے ہیں اور پھر بعد میں منتوں کے خط آتے ہیں آپ نے کس مصیبت میں ڈال دیا ہے ایسے خبیث انسان کو نصیحت کی ہے جواب بات کا بدلہ لے رہا ہے کہ اب میں تمہیں مزہ چکھاؤں گا تم نے شکایت کی کیوں تھی ، اب پتا چلے گا کہ زبر دست کون ہے، اب آواز دے لوان کو کہ آکے تمہیں بچالیں۔ایک جگہ واقعی یہ ہوا یعنی اس قسم کے مضمون کی باتیں تو آتی ہیں مگر انہی الفاظ میں کہ خاوند نے بیوی کو مارا، زیادتی کی۔اب آواز میں دو اپنے خلیفہ کو وہ آ جائے اور تمہیں بچائے ، کیوں شکایت کی تھی میری۔میں نے اس کو جواب میں لکھا اس کو کہو کہ میں تو تمہیں آواز نہیں