خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 140
خطبات طاہر جلد 16 140 خطبہ جمعہ 21 فروری 1997ء صلى الله علیه صلى الله صلى الله کی سیرت کے مطالعہ کی ضرورت ہے۔ آنحضرت ﷺ کی باتیں سننے کی ض سننے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر یہ مطالعہ سچا ہو اور فرضی وجود نہ ہو جس کو علماء پیش کرتے ہیں یعنی بڑھا چڑھا کر کرشموں کی صورت میں دکھاتے ہیں، ایک حقیقی انسان دکھائی دینے لگے آپ کو جو آپ کی طرح رہتا ہے اور اعلان کرتا ہے قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ ( حم السجدہ : (7) کہ دیکھو میں تم جیسا ہی انسان، تمہارے جیسا ہی بشر ہوں پھر مجھے کیا ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنے بڑے مقامات کے لئے چن لیا۔ یہ مضمون جب تک سمجھ نہ آئے اس وقت تک آنحضرت مال سے وہ محبت نہیں پیدا ہو سکتی جو گناہوں سے نجات بخش سکتی ہے یا نیکیوں میں آپ کا ہاتھ پکڑ کر آگے لے جاسکتی ہے۔ آنحضرت ﷺ کی بشریت ہمارے درمیان قدر مشترک ہے اور بشریت کے مضمون پر آپ غور کریں اور پھر دیکھیں کہ کن کن مواقع پر آپ کے سامنے کون سے دو امکانات پیدا ہوئے تھے اور کن کن مقامات پر آپ نے ایک امکان کو ترک کیا اور دوسرے کو لے لیا۔ پھر اس کو آپ اپنی زندگیوں پر اطلاق کر کے دیکھیں تو اس وقت آپ کو سمجھ آئے گی کہ کتنا مشکل مضمون ہے۔ اتنے مشکل چوائسز (Choices) تھے آنحضرت کے۔ انگریزی میں کہتے ہیں چوائسر مشکل ۔ مطلب ہے ترجیحات۔ جب بھی کوئی ترجیح کی ہے وہ مشکل کی طرف ترجیح کی ہے، آسانی کی طرف نہیں کی اپنی ذات کے لئے۔ یہاں تک کہ اللہ نے فرمایا ظَلُومًا جَهُولا یہ شریعت کا بار اٹھانے والا کامل انسان تو اپنی ذات پر حد سے زیادہ ظلم کرنے والا ہے۔ یہاں تک فرمایا فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ اے میرے بندے تو اپنی جان کو ہلاک کر لے لے گا گا اتنا اتنا ظلم کر رہا ہے اپنے اوپر ۔ یہ ظلم کیسے کیا اپنی ذات پر سوائے محبت کے یہ ظلم ہو ہی ہی نہا نہیں سکتا۔ پس آنحضرت ﷺ کی ذات کے سمجھنے کا آخری نکتہ، جیسا کا ئنات کو سمجھنے کا آخری نکتہ کشش ثقل ہے، آنحضرت اللہ کی کائنات کو سمجھنے کا آخری نکتہ اللہ سے آپ کی محبت ہے اور وہ محبت کس طرح جلوہ گر ہوئی ہے، کس طرح اس محبت نے آپ کی کایا پلٹ دی ہے یہ جب تک نصیب نہ ہو یا اس کے لئے کوشش نہ عليه صلى الله کی جائے کیسے ممکن ہے کہ وہ غلامی نصیب ہو جو تمام گناہوں کی بخشش کا اعلان کر رہی ہو۔ پس آنحضرت ﷺ کی سیرت کے مطالعہ سے، اگر آپ گہری نظر سے وہ مطالعہ العہ کریں آپ کے اندر ایسی ایسی پاک تبدیلیاں ہوں گی کہ آپ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے لیکن اس نقطہ نگاہ سے سمجھیں ٹھہر ٹھہر کر مواز نے کریں کہ آپ نے یہ کیا ، یہ کیا۔ میں جب صبح اٹھتا ہوں تو یہ کرتا ہوں اور وہ کرتا ہوں