خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 135
خطبات طاہر جلد 16 135 خطبہ جمعہ 21 فروری 1997ء يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ (آل عمران : 32) از روئے مفہوم ایک ہی ہیں کیونکہ کمال اتباع اس محویت اور اطاعت تامہ کو مستلزم ہے جو عبد کے مفہوم میں پائی جاتی ہے۔ یہی سر ہے کہ جیسے پہلی پہلی آیت آب میں مغفرت کا وعدہ بلکہ محبوب الہی بننے کی خوشخبری گویا ہے یہ آیت کہ قُلْ يُعِبَادِيَ دوسرے لفظوں میں اسی طرح پر ہے قل یا متبعی۔ (روحانی خزائن جلد 5 صفحہ: 192-193) یہ مضمون چونکہ زیادہ ادق ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب بڑے وسیع گہرے مضامین کو چند لفظوں میں بیان فرماتے ہیں تو ان کی تشریح کرنی پڑتی ہے ورنہ عام قاری اس کو سمجھ نہیں سکتا اس لئے اس مضمون کو میں اب اپنے لفظوں میں سمجھاتا ہوں کہ آپ کیا فرما رہے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک وہ آیت يُعِبَادِی اور إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ ایک ہی مضمون کی دو آیتیں ہیں اور ایک دوسرے پر روشنی ڈال رہی ہیں جو عبد ہوگا وہ اتباع کرے گا اور اتباع سے پہلے محبت ہونا ضروری ہے چنانچہ وہاں جو انیبوا کا مضمون بیان فرمایا گیا ہے یہاں إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللہ کے الفاظ میں بیان فرما دیا گیا۔ اصلاح کی شرط اول یہ ہے کہ محبت بہر حال ہونی ہے اگر محبت نہیں ہے تو محبت کا دعوئی تو ہو الله ارادے تو ہوں کہ ہم خدا سے محبت کریں یہ دعویٰ بہت بڑا ہے اور کیسے ہو جائے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رسول اللہ ﷺ فرمارہے ہیں فَاتَّبِعُونِی اور وہاں یعباد جو فرمایا تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس عباد کے لفظ کو اتبعونی کے ساتھ اس طرح جوڑ دیتے ہیں کہ اچانک دماغ روشن ہو جاتا ہے کہ عبد کا مطلب تو غلامی اور اتباع ہی ہے اس کے سوا اور کیا مطلب ہے کامل اتباع اور کامل غلامی اور یہاں بھی یہی بات ہو رہی ہے۔ فَاتَّبِعُونِی یعنی اللہ تعالیٰ کی محبت کو پانے کے لئے لازم ہے محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی کی جائے اور اپنی محبت کے دعوے کو سچا ثابت کرنے کے لئے بھی لازم ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی کی جائے اور کو کوئی مغفرت جسے مغفرت عظیم کہا جا سکتا ہے جس سے سارے گناہ بخشے جاسکتے ہیں اس غلامی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اب یہ مضمون دیکھنے میں آسان مگر کرنے میں بہت مشکل ہو گیا ہے اتبعونی کے لئے جو مشکلات سامنے درپیش ہیں وہ پہاڑ کی طرح ہیں ایک عام انسان کسی عام روزمرہ کے نیک انسان کی متابعت کرنے میں بھی بڑی دقت محسد ں بھی بڑی دقت محسوس کیا کرتا ہے بچے جو گھر میں پلتے ہیں وہ بھی اپنے نیک ماں صلى الله