خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 132 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 132

خطبات طاہر جلد 16 132 خطبہ جمعہ 21 فروری 1997ء مجھے اس گناہ سے نجات بخش اور یہ بڑی ہمت کا کام ہے کہ ایک ایسی چیز جس سے دل لگ چکا ہو اس کے خلاف انسان پورے شعور کے ساتھ یہ دعا کرے کہ اے خدا یہ مجھ سے چھڑا دے۔ چنانچہ مجھے اپنے تجربے میں بارہا یہ دقت پیش آتی ہے کہ جب بعض لوگ یا بعض بچیاں اپنی نا سمجھی سے ایسے فیصلے کر بیٹھتی ہیں کہ جو اسلام کی روایات اور احمدیت کی روایات کے خلاف ہیں جب ان کو میں کہتا ہوں کہ اپنے لئے دعا کریں تو ان کی طبیعت مائل نہیں ہوتی۔ وہ اقرار بھی کریں تو صاف نظر آرہا ہوتا ہے کہ فیصلہ نہیں ہو سکا اور جب وہ اس بات کو نہ سمجھ سکیں تو پھر کبھی بھی وہ نصیحت ان پر عمل نہیں کرتی لیکن جس نے بھی اس مضمون کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا، سمجھا اور معلوم کر لیا کہ بہت مشکل کام ہے جس کی طرف مجھے بلایا جا رہا ہے اور پھر تسلیم کر لیا کہ ہاں با وجود مشکل کے ہم ضرور ایسا ہی کریں گی ایک بھی ان میں سے ضائع نہیں ہوئی ، اللہ کے فضل کے ساتھ خدا نے ہمیشہ ان کو سنبھال لیا۔ تو سب سے پہلی بات جو توبہ کے تعلق میں قابل غور ہے وہ یہی ہے کہ انسان اپنے تعلقات کا جائزہ لے کیونکہ یہ سارا مضمون ہی تعلقات کا ہے یہ ساری : ہے یہ ساری زندگی ہی : ہی تعلقات کا قصہ ہے۔ ہر گناہ ایک تعلق پیدا کرتا ہے یا ایک تعلق کے نتیجہ میں ہوتا ہے اور ہر تو بہ ایک تعلق کے نتیجے ہی میں ہوگی ورنہ گناہ کا تعلق ٹوٹ سکتا ہی نہیں ۔ یہ وہ مضمون ہے جس کا ذکر کرتے ہوئے میں نے قرآن کریم کی اس آیت کے لفظ آنیوا میں جس کی میں نے تلاوت کی ہے اَنیبُوا کو آپ کے سامنے رکھا۔ اللہ تعالیٰ مغفرت کا مضمون بیان کرنے کے بعد فرماتا ہے آنِيبُوا إِلَى رَبِّكُمْ اپنے رب کی طرف جھک جاءَ وَ أَسْلِمُوا لَهُ پھر اپنے آپ کو اس کے سپرد کر و مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ پیشتر اس سے کہ عذاب آجائے اور تمہاری مدد نہ کی جائے۔ اب پہلی آیت یہ ہے کہ اِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا تمام گناہ بخش دیتا ہے۔ اس سے پہلے یہ ذکر گزرا کہ اے وہ لوگو جو اپنے نفسوں پر ایسی ایسی زیادتیاں کر بیٹھے ہو کہ گناہ کبیرہ میں یا کبائر میں ملوث ہو گئے بہت بڑے بڑے گناہ کئے ہیں تم بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ تو یہ جو خوشخبریاں ہیں اس کے بعد یہ آیت ایک عجیب سی بات پیش کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ تو ہر گناہ بخش دے گا لیکن موت سے پہلے پہلے ڈرو کہ وہ عذاب نہ آجائے ۔ اگر ہر گناہ بخش دے گا تو عذاب کیسا آئے گا ، پھر کس عذاب سے ڈرنے کی ہدایت فرمائی جا رہی ہے کیونکہ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ نے تو سارے