خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 133 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 133

خطبات طاہر جلد 16 133 خطبہ جمعہ 21 فروری 1997ء بوجھ اتار دیئے بظاہر کوئی بھی فکر باقی نہ چھوڑا۔جب خدا اتنا عظیم مہربان ہے کہ ہر گناہ بخش دیتا ہے تو پھر کسی عذاب کے خطرے کا سوال ہی باقی نہیں رہتا مگر اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں یہ سب غلط فہمیاں دور فرمائی ہیں جو بخشش کے متعلق عامتہ الناس میں پائی جاتی ہیں۔بخشنے کا مضمون ایک تو بہ کو چاہتا ہے اگر دل میں تبدیلی واقع ہو، انسان تو بہ کرنا چاہے تو پھر جو رستے کی دقتیں ہیں وہ خدا دور فرما تا رہتا ہے۔پھر کیسا ہی کٹھن سفر ہو اللہ تعالیٰ اسے آسان فرما دیتا ہے اور اس سفر کے آغاز پر آنيبُوا کا لفظ رکھا کہ یہ سفر تم سے شروع ہو نہیں سکے گا جب تک اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق پیدا نہ ہو۔گناہ کا مطلب ہے مادی دنیا سے بے حد تعلق قائم ہو گیا، عادتیں پڑگئیں ،ایک معمولی سی ڈرگ کی Addiction ہے وہ بھی ہو جائے تو ڈاکٹر بڑا زور لگاتے ہیں بعض دفعہ مہینوں ہسپتالوں میں رکھتے ہیں پھر جب ہسپتال سے باہر آیا پھر دوبارہ وہی ڈرگ شروع ہو جاتی ہے۔گناہ تو کتے کی دم کی طرح ہے کہتے ہیں بارہ سال تک ایک نالی میں کتے کی دم رکھی تھی تا کہ وہ سیدھی ہو جائے ، جب وہ نکالی تو پھر اسی طرح خم پڑ گیا۔تو یہ غم دور کرنے کے نسخے ہیں جو قرآن کریم بیان فرما رہا ہے اور ایسے نسخے بیان نہیں فرماتا جیسے کتے کی دم کو نالی میں ڈال دیا ہو جب نکالو پھر وہی۔قرآن کریم جو نسخے بیان فرماتا ہے وہ دائی ہیں وہ کبھی پھر انسان کو پہلے حال کی طرف لوٹنے نہیں دیا کرتا اور اس مضمون کی جان تعلق باللہ میں ہے۔گناہ ہے ہی تعلق کا نام۔تو بہ کیا ہے ایک تعلق سے دل توڑنے کی کوشش کرنا اور اللہ کا یہ دیکھ کر کہ یہ بندہ میری خاطر کر رہا ہے مگر اس میں طاقت نہیں ہے اس کی طرف جھک جانا یہ اس کے تو اب ہونے کی نشانی ہے۔پس تو بہ اپنی ذات میں کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتی اگر اللہ تواب نہ ہو اور تو اب کی طرف جانے کے لئے تو بہ سے پہلے فرمایا ہے انيْبُوا إِلَى رَبَّكُمْ کہ تم اپنے رب کی طرف مائل ہو۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جو حوالہ میں آپ کے سامنے پیش کر رہا تھا آج میں نے اس کا باقی حصہ آنے سے پہلے دیکھا تو مجھے بہت ہی خوشی ہوئی اس بات سے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی مضمون کے تعلق میں جوان آیات میں بیان ہوا ہے قُلْ يُعِبَادِی اس میں ایک اور آیت سے استنباط فرماتے ہوئے یہی معنی لئے ہیں، بعینہ یہ معنی لئے ہیں کہ یہ تعلق کا مضمون ہے۔اللہ کی محبت کا مضمون ہے اس کے سوا کسی گناہ سے انسان کو نجات نہیں مل سکتی۔