خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 126 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 126

خطبات طاہر جلد 16 126 خطبہ جمعہ 14 فروری 1997ء بندگی کے ہر ذرے پر، کائنات کے ہر ذرے پر ہیں تو اس کو یاد کرتے ہوئے پھر یہ سوچا کرو کاش ہم بھی وہ ہوتے جو خدا کے مقربین میں شمار ہو سکتے ۔ کاش ہم میں بھی قرب الہی کی علامتیں ظاہر ہوتیں ۔ یہ تمنا پیدا کرنا آپ کا کام ہے پھر أَسْلِمُوا کا مضمون لازماً اس کے نتیجے میں پیدا ہوگا۔ اگر تمنا سچی تھی، تمنا سچی ہے تو خیال خود بخو دا بھرے گا کہ ہم کیسے یہ کام کریں مشکل ہے۔ پھر اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرو، چھوڑ دو اس کے اوپر - إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی صدائیں لگاؤ۔ کہو اللہ ہم چاہتے ہیں کر نہیں سکتے ۔ کچھ کر ہمارا ، ہماری مدد کو آ، ہمیں سمیٹ لے۔ ہمارا حامی و ناصر ہو جا، ہمارا رفیق ہو جا، ہمارا حفیظ ہو جا۔ یہ دعا ئیں اس بے اختیاری کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں جو انیبوا إلى رَبِّكُمْ کے حکم پر عمل کے بعد پیدا ہوا کرتی ہیں، پہلے نہیں ہوا کرتیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو پہلی آیت کریمہ ہے اس سے بہت ہی عظیم عارفانہ مضامین نکالے ہیں اس وقت جتنا سا وقت رہ گیا ہے اس میں چند آپ کے ارشادات میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں اور خیال یہ ہے کہ شاید بہت سا حصہ بچ جائے گا، بچے گا تو انشاء اللہ آئندہ جمعہ میں میں آپ کے سامنے پیش کر دوں گا۔ اس آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام فرماتے ہیں کہ : اے میرے غلامو! جنہوں نے اپنے نفسوں پر زیادتی کی ہے۔ یعنی اللہ تعالی آنحضرت ﷺ کوحکم دیتا ہے کہ تو کہ کہ اے میرے غلامو! اور ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بندوں کا بھی ترجمہ کیا ہے مگر ساتھ تشریح فرمادی ہے کہ کن معنوں میں بندہ ہے یہ۔ مگر پہلے میں نے غلاموں والے اقتباسات لئے ہیں کیونکہ بندے تو خدا کے ہیں سارے۔ بندوں کے معنوں میں تو محمد رسول اللہ ﷺ کا کوئی بندہ نہیں تھا مگر جو محمد رسول اللہ ﷺ کا صلى الله علی سے الله غلام ہو جائے وہ ایک معنی میں محمد کا بندہ بھی کہلا سکتا ہے ہم تو تیرے بندہ بے دام ہیں“ کہتے ہیں جس طرح ۔ تو غلام کامل پر لفظ بندہ بھی اطلاق پا جاتا ہے۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں اے محمد ﷺ یعنی نام نہیں لیا مگر مخاطب حضور اکرمﷺ کو اللہ تعالی فرما رہا ہے۔ ”اے میرے غلامو! جنہوں نے اپنے نفسوں پر زیادتی کی ہے کہ تم رحمت الہی سے نا امید مت ہو خدا تعالیٰ سارے گناہ بخش دے گا۔ یہ پہلا آغاز کا اعلان ہے جو اسی طرح میں نے آپ کے سامنے رکھا جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارت ہے ۔ اب اس آیت میں بجائے قل یا عباد الله کے