خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 127
خطبات طاہر جلد 16 127 خطبہ جمعہ 14 فروری 1997ء جس کے یہ معنی ہیں کہ کہہ اے خدا تعالیٰ کے بندو یہ فرمایا قُل يُعِبَادِی یعنی کہہ کہ اے میرے غلامو! ( یہاں بندہ کی بجائے غلامو کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔) اس طرز کے اختیار کرنے میں بھید یہی ہے کہ یہ آیت اس لئے نازل ہوئی ہے کہ تا خدا تعالیٰ بے انتہار حمتوں کی بشارت دیوئے“ یہ وہ لطیف معرفت کا نکتہ ہے جو کسی مفسر نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سوا بیان نہیں کیا۔فرمایا خود بخود خدا کہہ سکتا تھا اے میرے بندو میں سارے گناہ بخش دوں گا لیکن امید کے لئے کوئی نمونہ تو سامنے ہو۔بے انتہا رحمتوں کا کوئی نشان تو ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمارہے ہیں اس وجہ سے محمد رسول اللہ ﷺ کوحکم دیا تو کہہ دے کیونکہ خدا ان بندوں کو تو اس طرح دکھائی نہیں دے رہا جیسے تو ان کو دکھائی دے رہا ہے اور جو بے چارہ گناہ گار اور ادنیٰ حالتوں میں ہے اس کو ویسے بھی خدا دکھائی نہیں دے سکتا یعنی اپنے نشانات اور اپنی صفات کے ذریعے بھی دکھائی نہیں دیا کرتا لیکن نبی کا وجود ایسا ہے کہ وہ ناممکن ہے کہ نظر نہ آئے۔اس کا حسن تو اس کے مخالفین، اس کے معاندین کو بھی دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔تو امید کو پوری طرح مستحکم اور قائم کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ محمد رسول اللہ اللہ کے ذریعے اعلان کروایا ہے۔وہ مجسم رحمت سامنے کھڑا تھا، وہ ایسی رحمت تھی جو آنکھوں سے دکھائی دیتی تھی ، اندھے بھی جانتے تھے کہ رحمان ہے اور رحیم ہے یعنی خدا کے تابع اس کی صفات رکھنے والا انسان ہے۔فرمایا: بھید یہی ہے کہ یہ آیت اس لئے نازل ہوئی کہ تا خدا تعالیٰ بے انتہا رحمتوں کی بشارت دیوے اور جو لوگ کثرت گناہوں سے دل شکستہ ہیں ان کو تسکین بخشے۔سو اللہ جل شانہ نے اس آیت میں چاہا کہ اپنی رحمتوں کا ایک نمونہ پیش کرے“۔(وہ کون سا نمونہ ہے۔) اپنی رحمتوں کا ایک نمونہ پیش کرے اور بندہ کو دکھلا دے کہ میں کہاں تک اپنے وفادار بندوں کو انعامات خاصہ سے مشرف کرتا ہوں۔““ اور پھر اس میں جو مضمون حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بیان کے لئے از خود نمایاں کر دیا ہے وہ یہ ہے کہ بخشش مقصود نہیں ہے۔بخشش تو ایک منفی صفت ہے صرف، جو گناہ ہو گئے ان سے نظر پھیر لی چلو کچھ نہیں کہتے ، سزا نہیں دیتے۔اللہ تعالیٰ صرف اس لئے تو تمہیں اپنی طرف نہیں بلاتا۔اللہ تعالیٰ نے تمہیں اعلیٰ مقاصد کے لئے پیدا فرمایا ہے جن میں اس کی رحمت کا نزول ہی ہے جس کی خاطر انسان کو پیدا کیا گیا ہے جو عبادت کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔پس يَعْبُدُونَ (یونس: 19) کا مضمون بھی یہی