خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 125 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 125

خطبات طاہر جلد 16 125 خطبہ جمعہ 14 فروری 1997ء نے اپنے آپ کو حسین تر بنایا یعنی محسنین ان معنوں میں بنے اور بندوں کے معاملات میں ان کا سلوک حسین سے حسین تر ہوتا چلا گیا۔وہ محض عدل پر قائم نہ رہے بلکہ احسان کا سلوک کرنے لگے یہ جو حسرتیں ہیں یہ جب آئیں گی تو پھر یہ وقت نہیں رہے گا۔پس یہ امور ہیں جن کی طرف توجہ کرنی لازم ہے۔ہم میں سے ہر ایک کے لئے لازم ہے۔موت آج نہیں تو کل آنی ہی آتی ہے کوئی اس سے بچ نہیں سکتا اور ساخرین والی بات پھر پیدا نہ ہو۔موت کے وقت یہ حسرت نہ لئے بیٹھے ہوں۔عذاب سے مراد صرف وہ ظاہری عذاب جو ہیں وہ نہیں ہیں بلکہ جو طر ز بیان ہے اس میں موت کا وقت بھی داخل ہے۔پس جب موت آجائے گی تو لاکھ زور ماریں آپ ، واپس ہو ہی نہیں سکتی۔اس وقت کی حسرتیں کسی کام نہیں آئیں گی اور بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ مرتے وقت اس نے توبہ کر لی تھی اس لئے ٹھیک ہے، یہ وہم ہے۔فرعون نے بھی تو مرتے وقت تو بہ کی تھی ، کب خدا نے اس کی طرف توجہ دی۔اس کی اس تو بہ کو رد کر دیا ہاں اسے عبرت کا نشان بنانے کے لئے وعدہ کیا کہ ہم تیرے جسم کو رکھیں گے۔تو ایسی حالت تک نہیں پہنچنا اور چونکہ اچانک آئے گی موت یا بعض عذاب بھی اچانک آ جاتے ہیں اس لئے پتا ہی کچھ نہیں کب آجائے۔اس سے پہلے پہلے وقت ہے کچھ کرنا ہے تو کر لو اور یہ زندگی عارضی ہے۔دن جو لمبے بھی دکھائی دیں وہ بھی گزر ہی جاتے ہیں بعض لوگوں کو رمضان بڑ المبادکھائی دیتا تھا کہ ایک مہینہ گزرے گا پورا اور گزر رہی گیا۔دیکھتے دیکھتے اَيَّامٍ مَّعْدُودَتٍ (البقرة:204) ہی ہو جاتے ہیں۔جب وقت مل جائے ، گزر جائے تو آیا ھے معْدُو دت کے سوا کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا۔گزرا ہوا وقت ہمیشہ چھوٹا ہوتا چلا جاتا ہے تبھی قیامت کے بعد لوگ کہیں گے ہم تو ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ رہے اس سے زیادہ تو ہمیں کچھ نہیں ملا۔تو وقت تو گزرنا ہے اور یہ زندگی لازما گزر جائے گی آج نہیں تو کل گزر جائے گی۔کل نہیں تو پرسوں، ہزار سال بھی رہیں تب بھی گزرنی ہی گزرتی ہے اور وہ وقت آ جائے گا جس وقت کے بعد پھر کوئی پیچھے ہٹنا نہیں ہے سوائے حسرتوں کے کچھ باقی نہیں رہ جاتا۔اس لئے زندگی میں جب تک توفیق ہے تو بہ کرو، استغفار کرو اور قرآن کریم نے دیکھو کتنا آسان طریقہ بیان فرمایا ہے آنِيبُوا إِلى رَبِّكُمْ محبت میں کون سی مشکل ہے۔پیار میں کون سی دقت ہے۔اللہ تعالیٰ کی تمنا تو دل میں پیدا کر لو۔اس کا خیال لا نا شروع کر و دل میں صبح، دوپہر، شام جب بھی خدا تعالیٰ کے احسانات پر نظر کرو جو ہر انسان پر،