خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 122
خطبات طاہر جلد 16 122 خطبہ جمعہ 14 فروری 1997ء کے حق میں جو اپنے آپ کو خدا کے سپر د کرتے ہیں ضرور پورا کیا جاتا ہے۔پس جماعت احمد یہ اس سے استفادہ کرے۔یہ زمانہ تکلیفوں کا اور عذابوں کا زمانہ ہے۔سب دنیا میں بے چینی پھیل گئی ہے۔ہر جگہ سے امن اٹھ رہا ہے۔طرح طرح کی مشکلات درپیش ہیں۔وہ امراض جو پہلے دب گئی تھیں وہ پھر اٹھ کھڑی ہوئی ہیں یعنی بدنی امراض بھی اور اخلاقی امراض بھی اور تمدنی امراض بھی۔اب دیکھیں یہاں جس طرح قومی تعصبات کا بھوت سر اٹھا رہا ہے چند سال پہلے اس کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ہر قوم میں بے چینی ہے، ایک بیقراری ہے۔اس کا اظہار وہ اس طرح کرتے ہیں کہ معصوموں پر ظلم کرتے ہیں۔اور عجیب انداز ہے اس زمانے کا کہ ہر وہ چیز جو انہیں بے چین کرتی ہے اس کے نتیجے میں دوسروں کو اور بھی زیادہ بے چین کر دیتے ہیں۔اسی زمانے کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے گھاٹے کا زمانہ ہے نقصان کا زمانہ۔جو عمل کرو ٹیڑھا کرو، جو بات کروالٹی کرو۔تو اس زمانے میں اگر بچنا ہے تو انِيْبُوا إِلى رَبِّكُمْ کے ذریعے۔اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں اس کی محبت کا آغاز کر دیں یعنی ایک دم تو ساری، تمام تر محبت اللہ تعالیٰ سے نہیں ہو سکتی۔اس کا خیال دل میں آنا شروع ہو جائے، یہ احساس پیدا ہونا شروع ہو جائے کہ اللہ کے بغیر تو کچھ بھی نہیں ہے۔یہ خلا محسوس ہو کہ ہمیں خدا تعالیٰ کی جو محبت محسوس ہونی چاہئے تھی وہ محسوس نہیں ہو رہی۔نمازیں خالی ہیں، ذکر خالی ہے دن رات دنیا کے کاموں میں لگے ہوئے ہیں، لیکن بار بار دھیان اللہ کی طرف نہیں جاتا۔اس مرض کو دور کریں اور اللہ تعالیٰ کا پیار پیدا کرنے کی کوشش کریں یعنی اس حد تک کم سے کم اتنا پیار کہ دل مائل تو ہو، یاد تو آئے خدا۔جب یاد آئے تو پھر اس حوالے سے اپنے نقائص کو دور کرنے کے لئے اپنے آپ کو خدا کے سپرد کرنا شروع کردیں۔اللہ میاں! تو پاک ہے، تو اعلیٰ ہے، تو ارفع ہے، تو عظیم ہے ، ہم تو جب غور کرتے ہیں ، ہم لگتا ہے کہ تیرے قابل ہی نہیں ہیں۔کیا کریں مگر دل چاہتا ہے کہ تیرے قابل ہو جائیں اس پہلو سے تو ہم پر رحم فرما اور ہمیں سنبھال لے تو اسلِموا کا مضمون یہاں سنبھالنے کے معنوں میں ہے۔اس کے بعد فرمایا وَ اتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنْزِلَ اِلَيْكُمُ جب تم سنبھالے جاؤ گے تو پھر اگلا قدم ضرور اٹھانا۔جو ابتدائی نیکیاں تمہیں نصیب ہیں ان پر بیٹھ نہ رہنا، ان پر تسلی نہ پا جانا کیونکہ