خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 120
خطبات طاہر جلد 16 120 خطبہ جمعہ 14 فروری 1997ء پس آنیوا کی شرط ہے جو تو بہ کے لئے آغاز کا کام دیتی ہے۔اس شرط کا مطلب ہے کہ تمہارے دل میں اللہ تعالیٰ کا اتنا خیال تو ہو کہ اس کی طرف جھکنے کی طرف طبیعت مائل ہو، دل چاہنے لگے کہ میں اللہ والا ہو جاؤں۔جب نیت کے اندر یہ آغاز ہوتا ہے نیکی کی طرف قدم بڑھانے کا تو انابت سے ہوا کرتا ہے ورنہ جو گناہوں میں ملوث ہیں ان کو گناہوں کا مزہ اتنا بڑھتا جاتا ہے کہ وہ گناہوں سے تو بہ کا خیال بھی نہیں کرتے بلکہ ان گناہوں کی حسرت کیا کرتے ہیں جو کر نہیں سکے۔تو جواصل تبدیلی والی بات ہے وہ انابت ہے۔یعنی خدا تعالیٰ کی طرف طبعی میلان اور جھکاؤ۔تو فرمایا کہ اگر تم مغفرت کے اس اعلان عام سے متاثر ہوئے ہو تم چاہتے ہو کہ تم بھی اس مغفرت کی لپیٹ میں آجاؤ، اس کے سائے تلے آجاؤ انِيبُوا إِلى رَبِّكُمْ اپنے رب کی طرف میلان پیدا کرو اس کی طرف جھکو اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف پیار کا میلان ہوگا تو پھر خدا تعالیٰ تمہارے اندر تبدیلیاں پیدا کرے گاور نہ خالی باہر بیٹھے خدا سے تعلق کوئی نہ ہو تو بہ توبہ کرتے رہو کچھ بھی اس تو بہ کے معنے نہیں ہیں۔جب انابت ہوگی تو پھر اس سے اگلا قدم اٹھانے کی توفیق ملے گی وَأَسْلِمُوا له اپنے آپ کو اس کے سپر د کر دو۔اگر پیار نہیں ہے محبت نہیں ہے تو انسان سپر د کیسے کر سکتا ہے یہ تو ناممکن ہے۔انسان اپنے آپ کو اسی کے سپرد کیا کرتا ہے جس سے محبت ہو جائے۔تو انیبو میں جو محبت کا مضمون ہے وہ کھول کر بیان کرنا ضروری تھا محبت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی طرف جھکو اور اس کے سپر داپنے آپ کو کرتے چلے جاؤ اور سپردگی میں مغفرت کا مضمون ایک نئی شان کے ساتھ داخل ہے۔سپردگی اس موقع پر یہ معنی رکھتی ہے کہ تم اپنی طاقت سے تو اپنے گناہ جھاڑ نہیں سکتے اپنی طاقت سے تو اپنی برائیاں دور نہیں کر سکتے اللہ سے پیار پیدا ہو گیا ہے مگر گناہ دور کرنے کی طاقت نہیں ہے تو اسلموا ان معنوں میں کہ اللہ کو کہو ہم تو تیرے ہو گئے ہیں تیرے سپر داپنے آپ کو کر رہے ہیں اب تو ہی ہے جو ہماری مغفرت کا سامان فرمائے۔إيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ وہی مضمون ہے جو ایک اور رنگ میں بیان ہوا۔ہم نے جب فیصلہ کر لیا ہے کہ تیری عبادت کریں گے اور تیرے سوا کسی کی نہیں کریں گے تو بڑا مشکل کام ہے۔فیصلہ بہت عظیم ہے مگر اس فیصلے پر عمل مشکل ہے۔اس لئے اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں تو جس کے ہو گئے یا جس کے لئے دل میں ایک میلان پیدا ہوا اس کے سپر د ہونے کے لئے بھی اسی کی حفاظت کی چادر میں آنا اسلموا کا مضمون ہے۔تم اپنے معاملات اس کے سپرد کرتے