خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 119
خطبات طاہر جلد 16 119 خطبہ جمعہ 14 فروری 1997ء والے ہیں ان کی بعض دفعہ اللہ تعالیٰ اس حیرت انگیز طریق پر حفاظت فرماتا ہے کہ وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ اس طرح ہم بچائے جائیں گے۔چنانچہ پاکستان میں جو بد اطمینانی کی حالت ہے اس میں کئی دفعہ بعض نیک لوگ بھی بتاتے ہیں کہ ہم بھی مشکل میں مبتلا ہوئے ، ہمیں بھی ڈاکوؤں نے لوٹا، ہمارے گھر بھی داخل ہوئے لیکن ایک بات تو یہ نظر آتی ہے کہ اس اگلی بد حالت سے وہ پھر بھی بچالیے گئے ہیں جو بعض دوسروں کے اوپر عائد کی گئی۔یعنی عورتوں کی بے عزتی، بچوں پر ظلم وستم اور کسی طرح ان ڈاکوؤں کے ہاتھ رک گئے اور وہ آخری حد تک نہیں پہنچے۔یہ تو عام خدا تعالیٰ کا ایک خاص فضل ہے جو جماعت پر دکھائی دے رہا ہے۔لیکن کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کے متعلق کوئی وجہ ہی نہیں نظر آتی کہ کیوں بچ گئے ، حالات نے گھیرا ڈال لیا تھا، ان کا بچنا دکھائی نہیں دیتا تھا، وہ لکھتے ہیں کہ اس طرح خدا تعالیٰ کے فضل کے ہاتھ نے ہمیں بچا لیا کہ حیرت زدہ رہ گئے۔یہ وہ احسان والے لوگ ہیں جن کو بغتةً عذاب بھی نہیں چھوئے گا۔کئی دفعہ ایسا ہوا کہ سیلاب سے ایک دن پہلے وہاں سے منتقل ہو گئے ہیں یا اور ایسا ذریعہ بن گیا کہ خدا تعالیٰ نے ان کو وہاں سے بچالیا اور نقصان سے بچالیا تو احسن عمل محض ایک نفلی حصہ نہیں ہے بلکہ روزمرہ کی زندگی کی ضرورتوں میں داخل ہے اور احسن عمل والا اس نیک سے زیادہ بہتر جزا پاتا ہے جو عام باتوں میں تقویٰ تو اختیار کرتا ہے یعنی بدیوں سے بچ جاتا ہے مگر نیکیوں میں آگے نہیں بڑھتا اور لفظ احسن کا استعمال اس پہلو سے قرآن کریم نے اور بھی جگہ فرمایا ہے اور فرمایا ہے جنہوں نے اس دنیا میں احسان سے کام لیا، جو محسن ہو گئے ان کے لئے اس دنیا میں غیر معمولی جزاء ہے اور یہاں بھی جزاء ہوگی۔تو اس پہلو سے اگر آپ رمضان کے بعد اپنی بدیوں کو دور کرنے کی طرف متوجہ ہیں اور متوجہ رہنا چاہتے ہیں اور رمضان گزرنے کے بعد اسے الوداع نہیں کہ بیٹھے تو پھر اس طرح سے اپنی اصلاح کی کوشش کریں۔سب سے پہلے انابت ہونی چاہئے۔اللہ تعالیٰ کی طرف طبیعت کا جھکاؤ اور میلان۔یہ جو انا بہت ہے یہ جھکاؤ ایسا ہے جو اپنی ذات میں بخشش کے لئے ایک لازمہ ہے۔جس شخص کا اللہ تعالیٰ کی طرف رجحان نہ ہو اس پر اس آیت کا کوئی اطلاق نہیں ہوگا کہ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا۔بڑاہی بیوقوف ہوگا جو یہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف میرا میلان ہی کوئی نہیں، رجحان ہی کوئی نہیں، میں مزے سے دنیا میں مبتلا رہوں گا اور بخشا جاؤں گا۔بڑے دھوکے میں مبتلا ہے۔یہ دنیا بھی اس کی اکارت جائے گی اور اگلی دنیا بھی۔