خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 118 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 118

خطبات طاہر جلد 16 118 خطبہ جمعہ 14 فروری 1997ء اختیار کرنے میں کوئی جلدی نہیں کرتے وہ سمجھتے ہیں یہ اوپر کی باتیں ہیں ہم بعد میں کرلیں گے پہلے ابتدائی تو ٹھیک کرلیں اپنے آپ کو ، نمازیں شروع کر دی ہیں بس یہی کافی ہے۔انہیں سنوار کر پڑھنا، تہجد کی نمازوں تک جا پہنچنا، راتوں کو اٹھنا ان تمام تقاضوں کو وہ سمجھتے ہیں کہ نفلی اور نسبتا زیادہ اعلیٰ درجے کے تقاضے ہیں ان کے بغیر بھی کام ہو سکتا ہے اس لئے وہ نفس کی کمزوری کی وجہ سے ٹالتے چلے جاتے ہیں۔آہستہ آہستہ بڑھ ہی رہے ہیں، آج نہیں تو کل حاصل کر لیں گے یہ باتیں۔تو اس کی طرف اللہ تعالیٰ متوجہ فرمارہا ہے کہ جو احسن کا حاصل کرنا ہے یہ بہت بڑی بات ہے۔پہلی بات سے تمہیں تقویٰ تو نصیب ہو جائے گا مگر ادنی درجے کا تقویٰ اور جب تم توبہ کے بعد بہترین حصے پر عمل کی کوشش کرو گے تو تمہارے وجود کی کایا پلٹ جائے گی اور اس سے پہلے کہ خدا کی کوئی پکڑ ظاہر ہو جائے جسے تم محسوس نہ کر ویعنی تمہارا موت کا وقت آپہنچے یا عذاب عام ظاہر ہو جائے اس وقت سے پہلے پہلے تم بہترین عمل کر لو۔اب یہاں ایک مشکل ہے جس کا دور کرنا ضروری ہے۔وہ لوگ جو تو بہ کر لیتے ہیں کیا جب عذاب کا وقت آتا ہے اگر وہ احسن پر ہاتھ نہ ڈال رہے ہوں تو کیا عذاب کے نیچے آئیں گے؟ یہ سوال پیدا ہوتا ہے ورنہ آیت کریمہ ایک غیر ضروری بات تو نہیں فرما سکتی۔پہلی آیت کے ساتھ اس کو ملا کر پڑھیں تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ آنيبوا کا مطلب تھا اگر تم تو بہ کرلوخدا کی طرف متوجہ ہو جاؤ ، خدا نے وعدہ فرما دیا کہ پھر عام بخشش کے اندر تم داخل ہو جاؤ گے تو احسنوا اس سے اگلا قدم ہے اگر احسان نہ کر سکے تو کیا اچانک عذاب میں مبتلا ہو جائے گا۔یہ ہے جو مشکل اس سے پیدا ہوتی ہے اور دور کرنا ضروری ہے۔عذاب کی جو نوعیت ہے بَغْتَةً اور اچانک یہ بعض دفعہ قومی عذاب کے طور پر نازل ہوا کرتا ہے جس میں نیک بھی جس طرح گندم کے دانوں کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے اسی طرح وہ ہر شخص بیچ میں کچھ نہ کچھ مبتلا ضرور ہو جاتا ہے۔عام قومی عذاب آ رہے ہیں ہمصیبتیں پڑ رہی ہیں سیلاب آ رہے ہیں، طوفان آرہے ہیں، بے اطمینانی ہورہی ہے، گھر گھر ڈا کے پڑ رہے ہیں، بچے اغوا ہو رہے ہیں، ہر طرف ظلم کا دور دورہ ہے۔وہ جو عذاب ہے وہ آتا تو بدوں پر ہے اور بد ہی اس کے ذمہ دار ہیں لیکن بسا اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ نیک لوگ بھی بے چارے اس میں زخمی ہوتے ہیں۔کسی نہ کسی پہلو سے وہ دکھ اٹھا لیتے ہیں اور بعض دفعہ اچانک جو طوفان ظاہر ہوتا ہے مثلاً سیلاب آگیا ہے وہ نیکوں کے گھر اور بروں کے گھروں میں تمیز تو نہیں کرتا مگر وہ لوگ جو خدا کے نزدیک احسن اعمال