خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 6 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 6

خطبات طاہر جلد 16 6 بڑھ گیا ہے، کوئی نہ کوئی وجہ ضرور تھی جس کی وجہ سے آگے بڑھا ہے۔خطبہ جمعہ 3 /جنوری 1997ء ایک آدمی کہہ سکتا ہے کہ فلاں وہ تیز دوڑنے والا تھا اس کو خدا نے اچھا جسم دیا تھا، اچھی صلاحیتیں عطا کیں اچھے ماحول میں پیدا ہوا، اچھے تربیت دینے والے اس کو میسر آگئے تو پھر میرا کیا قصور ہے جو میں پیچھے رہ گیا۔تو اس لئے میں کہہ رہا ہوں کہ عدل کا جہاں تک مضمون ہے اس سے پہلے احسان خدا کی طرف سے لازماً ہوتا ہے لیکن جب انسان دیکھتا ہے تو یہ بحث نہیں کرے گا کہ خدا نے اس پر احسان کیوں کیا، اس پر کیوں نہیں کیا۔اس نے یہ فیصلہ کرنا ہے صرف کہ جب دوڑ ہوئی تھی تو کون آگے بڑھا ہے۔اس کی ماں نے دودھ نہیں پلایا اس لئے وہ آگے نہیں بڑھ سکا بلکہ بکری کے دھ پر پالا گیا اس لئے آگے نہیں بڑھ سکا یہ بخشیں تو نہیں اٹھائی جائیں گی۔صرف یہ دیکھا جائے گا کہ جب دوڑ ہوئی تو آگے کون بڑھا مگر آگے بڑھنے کے باوجود اگر کوئی یہ پیغام دیتا چلا جائے کہ جہاں تک ابتدائی صلاحیتوں کا تعلق تھا انسانی قدر مشترک کا تعلق ہے وہ سب ہم میں برابر تھیں اس لئے یہ کہہ کر پیچھے نہ رہ جانا کہ تمہیں خدا نے وہ توفیق ہی نہیں بخشی تھی۔توفیق بخشی لیکن تم نے اس توفیق سے استفادہ نہیں کیا اور پوری طرح فائدہ نہیں اٹھایا۔اب یہ جو مضمون ہے تو فیق والا یہ میں نے پہلے بھی ایک دفعہ سمجھایا تھا پھر بھی بعض دفعہ لوگوں کے دل میں دوبارہ سوال اٹھتے ہیں۔یہ کہنا بھی غلط ہے کہ بشریت کی توفیق کا یہ مطلب ہے کہ ہر بشر کی جو حقیقی موجود توفیق ہے وہ ایک جیسی ہوا کرتی ہے۔کسی بشر کی نظر تیز ہے، کسی کی نظر کمزور ہے۔کسی کو سونگھنے کی پوری صلاحیت نہیں۔کوئی بہرا ہے، کوئی بہرا اور اندھا اور گونگا بھی ہے تو اگر اس تفصیل میں جا کر آپ دیکھیں تو قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ کی بات یہاں صادق نہیں آتی پھر۔اس لئے وہ جو بَشَرٌ مِثْلُكُمْ کا مضمون ہے وہ زیادہ وسیع دائرہ سے تعلق رکھتا ہے اس کے صحیح فہم کے بغیر آپ اس مثال کو سمجھ نہیں سکتے اور دل میں ہمیشہ الجھنیں باقی رہ جائیں گی۔پس آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ میں بھی تمہاری طرح کا ایک بشر ہوں اور ایک ایسا بشر ہوں جس نے اپنے دائرہ استطاعت کو اپنے درجہ کمال تک پہنچا دیا ہے۔تم جس حالت کے بھی بشر ہو گے اگر تم اپنے دائرہ استعداد کو اپنی انتہائی طاقتوں تک بڑھا دو گے تو پھر خدا تم سے یہ سلوک ضرور فرمائے گا کہ تم سے بھی ہم کلام ہو، تم سے بھی اپنا تعلق قائم کرے گا مگر اس کے لئے کچھ شرطیں ہیں