خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 103 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 103

خطبات طاہر جلد 16 103 خطبہ جمعہ 7 فروری 1997ء جائے اس کو قرآن کریم کی تعریف کی رو سے علم نہیں کہا جا سکتا۔اگر علم سچا ہو تو ہر علم کو خدا کی جانب لے جانا چاہئے اور اگر علم سچا ہو اور خدا کی طرف نہ لے جائے تو علم والے جھوٹے ہیں۔پھر وہ اُولُوا الْأَلْبَابِ نہیں ہیں کیونکہ علم کے نتیجے میں اور کوئی راہ ہے ہی نہیں ، ایک ہی رستہ ہے جس پر علم لے کے جائے گا۔دنیا کے جتنے علوم ہیں ان پر آپ غور کر کے دیکھ لیں اگر آپ کو تفصیل سے ان کے مطالعہ کا موقع ملے تو ان میں سے جو دنیا کے سائنسدان ہیں جو اُولُوا الْأَلْبَابِ ہیں وہ لازماً اقرار کرتے ہیں کہ ایک خدا ہے اور اپنی برادری میں بظاہر پرانے لوگ شمار ہونے کے باوجود جن کے اوپران کے سائنسدان بھائی ہنستے ہیں کہ یہ تم نے کیا پاگلوں والی بات شروع کر دی ہے اتنے عالم ، اتنے قابل اور یہ فرسودہ باتیں کر رہے ہو کہ خدا ہے اور اسی نے کائنات کو پیدا کیا، اسی کی طرف سب نے جانا ہے اس کے باوجود چونکہ اُولُوا الأَلْبَابِ ہیں وہ اپنی بات پر قائم رہتے ہیں اور کوئی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ڈاکٹر عبدالسلام صاحب مرحوم کے ساتھ یہی سلوک ہوتا رہا، ان کی غیر معمولی عقل اور فراست اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جو آپ کو علوم کی تہہ تک رسائی نصیب ہوئی ہے اس کی وجہ سے وہ سامنے تمسخر تو نہیں کر سکتے تھے مگر ڈاکٹر صاحب سے ایک دفعہ گفتگو ہوئی وہ کہتے تھے مجھے پتا ہے، میں جانتا ہوں، مجھے احساس ہے کہ جب میں گزرتا ہوں تو کچھ سرگوشیاں ہوتی ہیں کہ یہ وہ ہے جو خدا کی ہستی کا قائل ہے۔یہ وہ ہے جو یوم آخرت کا قائل ہے، یہ وہ ہے جس نے اپنی زندگی کو خدا کے حوالے سے ڈھالا ہے۔کچھ عزت بھی کرتے ہیں لیکن محض اصول پرست ہونے کی وجہ سے یا عزت کرتے ہیں تو اس وجہ سے کرتے ہیں کہ ایک با اصول انسان ہے، سچا ہے یا جھوٹا ہے، ہے با اصول۔چنانچہ وہ اس سے احترام کا سلوک کرتے ہیں۔کچھ ہیں جو پیٹھ موڑ کر پھر آپس میں اگر مذاق نہیں کرتے تو ہلکی پھلکی باتیں ضرور کریں گے کہ پتا نہیں اس بے چارے کو کیا ہو گیا ہے اچھا بھلا عقل والا لیکن یہ باتیں کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے بے وقوفوا بظاہر عقل والے ہو ، بظاہر علوم حاصل ہیں لیکن علوم جس کی طرف اشارہ کرتے ہیں وہ دیکھ نہیں رہے۔اگر اُولُوا الْأَلْبَابِ ہوتے تو لا زنا تمہیں علم کی ہر انگلی خدا کی طرف اٹھتی دکھائی دیتی۔یہ وہ مضمون ہے جس کے متعلق فرماتا ہے إِنَّمَا يَتَذَكَرُ أُولُوا الْأَلْبَابِ علم کے باوجود تم نصیحت حاصل نہیں کر سکتے جب تک عقل اور فراست نہ ہو۔اُولُوا الْأَلْبَابِ میں جو عقل کی تعریف ہے وہ قرآن کریم کی ایک خاص تعریف