خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 99
خطبات طاہر جلد 16 60 99 خطبہ جمعہ 7 فروری 1997ء کے حصول کے باوجود ناشکری کی زندگی تو بہت ہی نا پسندیدہ زندگی ہے۔ایک طرف دنیا کا انسان جو تمہیں کچھ دے سکتا ہے بسا اوقات نہیں بھی دیتا تو اس کی چوکھٹ پر سر پکتے چلے جاتے ہو۔کتنے سیاستدان ہیں جنہوں نے دنیا کو، واقعہ اپنے پیچھے چلنے والوں کو کچھ عطا کیا ہے، صرف ایک فخر ہی کا احساس ہے۔یہ یقین ہے کہ ہم بڑے ہیں کیونکہ ہمارا دوست بڑا ہے، ہم اس کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں مگر دیتے کب ہیں کچھ۔اللہ تعالیٰ جو رب العالمین ہے جس نے تمہاری زندگی کے سارے سامان پیدا فرمائے اس کا شکر کا تصور تک تمہارے دل میں پیدا نہیں ہوتا۔اس کی عبادت کو یہ سمجھتے ہو کہ اتنا بوجھ ہے کہ مصیبت پڑ گئی ہے اس لئے سال کا ایک جمعہ بھی اس لئے پڑھا جاتا ہے کہ چلو سارا سال نہ ہی اس ایک جمعہ سے ہی خدا تعالیٰ راضی ہو جائے گا۔نہ کوئی خرچ کرنا پڑا نہ کوئی مصیبت اٹھانی پڑی ، مفت کا یار کمایا گیا اور کیا چاہئے۔۔اور دراصل بہت سے علماء بدقسمتی کے ساتھ لوگوں کو اس طرف، ان غلط راہوں کی طرف لے جاتے ہیں یہ تصور پیش کرتے ہیں کہ خدا تو بڑا رحیم و کریم ہے کیا مصیبت پڑی ہے اس کی راہ میں محنتیں کرنے کی جمعتہ الوداع میں اگر تم چلے جاؤ اور جمعہ کے بعد عصر تک دعائیں کرو تو تمہاری سارے سال کی خطائیں ہی نہیں ساری زندگی کی خطائیں معاف ہو جائیں گی۔پس جمعتہ الوداع کی برکتیں، اس کی عظمتیں بیان کر کر کے وہ بے وقوفوں کی عقلیں مار دیتے ہیں، جو کچھ تھوڑی سی عقل ہے اس کا بھی ستیا ناس کر دیتے ہیں اور قرآن کریم کے اس مضمون سے بالکل منافی تعلیم دے رہے ہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ یادرکھو عارضی طور پر اگر تم میرے پاس آؤ گے میں سن بھی لوں گا تو یا درکھنا اس کی کوئی حقیقت نہیں ہوگی۔میرے پاس آکر اگر میرے ساتھ تعلق پیدا ہو جائے تو پھر دائی میرے ہو کر رہو گے لیکن آئے اور چلے گئے ، یہ قطعی اس بات کی دلیل ہے کہ تم اپنے وقتی فائدے کی خاطر آئے تھے ، تمہارا میری ذات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ان کے متعلق فرمایا۔يُنبتُكُم كُنتُمْ تَعْمَلُونَ اللہ تعالیٰ تمہیں بتائے گا پھر کہ تمہارے اعمال کیا تھے اور آخر دوسری آیت میں یہ نتیجہ نکالا ہے اے ایسے انسان اِنَّكَ مِنْ أَصْحُبِ النَّارِ تو آگ کا ایندھن ہے، اس کے سوا تیرا کوئی مقدر نہیں ہے۔تو اللہ تعالیٰ تو یہ نقشہ کھینچ کر آگ کا انجام دکھا رہا ہو اور مولوی کہہ رہے ہوں کہ کوئی فکر کی بات نہیں آنحضرت ﷺ سے محبت کا دعوی کر لو پھر جو چاہے کرتے پھر وسب کچھ اجازت