خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 97
خطبات طاہر جلد 16 97 خطبہ جمعہ 7 فروری 1997ء نوکریاں، دنیا کے کام اور پھر جو کچھ حاصل ہوتا ہے اسے اپنے عیش و عشرت اور لطف کے حصول کے لئے انسان بے انتہاء خرچ کرتا ہے۔ جب جتنی توفیق ہو خرچ کرتا چلا جاتا ہے اور دنیا کی زندگی کا جو لطف ہے وہ اسے شراب کی طرح مدہوش رکھتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ سب کچھ مل گیا تو میری زندگی کامیاب ہے اس لئے وہ ضرورت محسوس نہیں کرتا اس خدا کی طرف جھکنے کے لئے۔ جو رب ہے جس کی ربوبیت کے نتیجے ہی میں اسے یہ سارے فیض ملتے ہیں۔ ہاں جب کوئی تکلیف پہنچے، کوئی حادثہ ہو جائے ، کوئی بیماری آجائے یا بعض دفعہ بعضوں کے کاروبار اچانک تباہ ہونے لگتے ہیں اور بڑی مشکلات درپیش ہوتی ہیں، چٹیاں پڑ جاتی ہیں یا ویسے دنیا کے مصائب کی چکی میں انسان پیا جاتا ہے، مظالم کا شکار ہو جاتا ہے یہ سارے وہ ہیں جن کو ضر" کے لفظ کے تابع بیان فرمایا گیا اس وقت انسان خدا کی طرف جاتا ہے خواہ کیسا ہی دہر یہ کیوں نہ ہو، کیسا ہی بے تعلق کیوں نہ ہو۔ دراصل یہ مضمون ہے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا والا ۔ جب انسان غرق ہونے لگے تو جانتا ہوا بھی کہ تنکا مجھے کچھ فائدہ نہیں دے گا تنکا بھی نظر آئے تو اس پر ہاتھ مار دے گا۔ تو اگر چہ ان کا خدا سے تعلق ایک سرسری سا تعلق ہوا کرتا ہے ان کا اللہ تعالیٰ کی ذات پر ، اس کی قدرتوں پر ایمان ایک کھوکھلا سا ایمان ہے مگر جب کچھ بھی تھا۔ اللہ تعالیٰ دکھائی نہ دے تو پھر انسان اس ایمان پر ہاتھ مارتا ہے جسے وہ بے حقیقت اور کھو کھلا سمجھتا تھا۔ ا فرماتا ہے ایسی حالت میں اس کی بے قراری کے پیش نظر ہم سن بھی لیتے ہیں اور اس کی مصیبتیں دور فرما دیتے ہیں اور ان مصیبتوں کی جگہ اس کے لئے راحت اور آرام کے سامان کرتے ہیں ۔ جب یہ کچھ ہو جائے تو پھر وہ شریک ٹھہرانے لگتا ہے۔ یہ مضمون کیوں پیدا ہوتا ہے۔ جب اس نے دعا کی اور دعا قبول ہوگئی تو پھر کیوں خدا کے سوا کسی اور طرف جھکتا ہے۔ اس کا جواب دراصل اس آیت کے پہلے حصے میں دیا جا چکا ہے۔ اس کو محض مجبوری ہے اور سخت انتہاء کی بے اختیاری ہے جو خدا کی طرف جانے پر مجبور کرتی ہے۔ اگر خدا پر اعتقاد ہوتا ، یقین ہوتا ، ایمان ہوتا تو اس کی ساری زندگی اللہ سے تعلق میں کٹتی۔ اللہ تعالیٰ سے پیار اور محبت کے سلسلے ہمیشہ استوار رہتے ۔ پس وہ عارضی طور پر جب گیا ہے تو دراصل ایمان نہیں ہے ویسی ہی بات ہے جیسا کہ میں نے کہا تھا ” ڈوبتے کو تنکے کا سہارا وہ ہاتھ مارتا ہے اور جب تنکا، اسے جسے وہ تنکا سمجھ رہا ہے بچا لیتا ہے تو یقین کرتا ہے کہ تنکا تو بچا سکتا ہی نہیں یہ میری ہی کوئی چالا کی ہے جو میرے کام آئی ہے۔ بدلتے ہوئے حالات کی اور توجیہات کرنے لگتا ہے۔ وہ