خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 96 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 96

خطبات طاہر جلد 16 ہوں گے۔96 96 خطبہ جمعہ 7 فروری 1997ء فرمایا اِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ یاد رکھنا تمہارے سینوں کی گہرائیوں تک خدا واقف ہے۔یہ گمان دل سے نکال لو کہ کوئی کام اس سے چھپ کے بھی کر سکتے ہو۔کوئی ایسی زندگی بھی گزار سکتے ہو جس کا خدا کو علم نہیں اس لئے قیامت کے دن تم پرستش سے بچ جاؤ گے۔فرمایا وہ سینوں کے اندر چھپے ہوئے رازوں سے بھی واقف ہے۔ذَاتِ الصُّدُورِ کا مطلب ہے جو کچھ بھی سینوں میں ہے، سینے والی باتیں مراد ہے۔وَ إِذَا هَشَ الْإِنْسَانَ ضُرُّ دَعَارَبَّهُ مُنِيبًا إِلَيْهِ يه ایک دائی انسانی فطرت کا بیان ہے کہ وہ کیسے خدا تعالیٰ سے معاملہ کرتا ہے۔وہ لوگ جو عام طور پر خدا کو بھول جاتے ہیں وہ لوگ جن کی زندگی میں خدا کا کوئی عمل دخل نہیں رہتا خدا ان کی یادوں سے بھی باہر نکلا رہتا ہے۔دنیا کے کاموں میں مصروف دنیا کی عزتوں کا پیچھا کرتے ہوئے ، دنیا کے اموال کی پیروی کرتے ہوئے ، ان کی ساری زندگی ضائع چلی جاتی ہے۔ہاں جب تکلیف پہنچتی ہے۔إِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ ضُر جب بھی کوئی تکلیف انسان کو چھو جائے۔دَعَارَبَّهُ مُنِيبًا إِلَيْهِ وہ اللہ کی طرف جھکتا ہوا اس کے حضور گریہ وزاری کرتا ہے یا اس کے حضور دعائیں کرتا ہے۔دُعا ربہ میں گریہ وزاری کا مضمون ظاہرا تو نہیں مگر شامل ہے۔جب تکلیف ہو تو انسان گریہ وزاری ہی کے ساتھ دعا کیا کرتا ہے۔ثُمَّ إِذَا خَوَّلَهُ نِعْمَةً پھر جب اللہ تعالیٰ اسے کوئی نعمت عطا فرما دیتا ہے۔نَى مَا كَانَ يَدْعُوا بھول جاتا ہے کہ وہ کیا دعا ئیں کیا کرتا تھا یا کون سی دعا ئیں اس نے کی تھیں جن کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ایک مصیبت کو ایک رحمت میں تبدیل فرما دیا۔وَ جَعَلَ لِلهِ اَنْدَادًا لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِہ اور وہ اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرانے لگتا ہے اور اس حد تک ٹھہرانے لگتا ہے کہ دوسروں کو بھی اس راہ سے گمراہ کر دے۔قُلْ تَمَتَّعُ بِكُفْرِكَ قَلِيْلًا اِنَّكَ مِنْ أَصْحُبِ النَّارِ تو کچھ دیر بے شک ان باتوں میں جو زندگی کے مزے لوٹ سکتا ہے لوٹ لے لیکن یا درکھ کہ آخر آگ کا عذاب تیرے مقدر میں ہے تو اس سے بچ نہیں سکتا۔اب یہ روز مرہ کی باتیں ہیں لیکن روز مرہ ہی انسان ان باتوں کو بھلائے رکھتا ہے۔اکثر جو مزے سے بے تعلق رہنے والے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ان کی زندگی بسا اوقات اپنے ہی معاملات کی جستجو میں کھوئی جاتی ہے، بالکل مگن ہو جاتی ہے۔بیوی بچے ہیں، رہن سہن ہے، مکان، جائیدادیں،