خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 95
خطبات طاہر جلد 16 95 خطبہ جمعہ 7 فروری 1997ء محتاج نہیں۔تم اگر تمام تر بھی خدا سے پیٹھ پھیر کے چلے جاؤ تو وہ جو عالمین کا رب ہے اسے ایک دور کے چند آدمیوں کی کیا پر واہ ہو سکتی ہے۔لیکن اس کی لاپرواہی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تمہاری بھلائی میں اسے کوئی دلچسپی نہیں۔فرمایا وَلَا يَرْضَى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ تمہیں اجازت تو دے رکھی ہے کہ چاہو تو کفر اختیار کر جاؤ کیونکہ یہ جو انسانی زندگی کا ماحصل ہے وہ اس اختیار سے وابستہ ہے چاہو تو یہ کرو چاہو تو وہ کرو۔پس خدا تعالیٰ زبر دستی تو تمہیں کسی نیکی پر قائم نہیں فرمائے گا اور اگر تم چلے جاؤ تو اس کی پرواہ بھی کوئی نہیں، اس کا کوئی نقصان نہیں مگر چاہتا یہ ہے کہ تم کفر سے بچ جاؤ۔وَلَا يَرْضُی لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ اپنے بندوں کے کفر پر خدا راضی نہیں ہوتا۔اسے پسند نہیں آتا کہ اس کے بندے ہوں اور شیطان کے بندے بن جائیں وَ اِنْ تَشْكُرُ وا يَرْضَهُ لَكُمْ اور اگر تم شکر کرو تو وہ تم سے بہت راضی ہوگا اور یاد رکھنا وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى - خدا تعالیٰ سے جو رضا تم نے چاہنی ہے اس میں تمہارے کوئی رشتے ، کوئی تعلق کام نہیں آئیں گے۔کسی کی اولاد ہو یہ نہیں دیکھا جائے گا۔کن بڑے لوگوں سے تمہارا تعلق ہے یہ بات خدا تعالیٰ کے حضور قابل پذیرائی ہی نہیں ہے۔کوئی اس کا تعلق تمہاری بخشش سے نہیں۔لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى یه ایک ایسا دائمی قانون ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں۔کوئی بوجھ اٹھانے والی جان کسی اور کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔پس یاد رکھو اگر تم نے خدا کو راضی کرنا ہے تو لازماً تمہیں خود اس رضا کے حصول کے لئے کچھ کرنا ہوگا۔ثُمَّ اِلى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ اور یاد رکھو تم میں سے ہر ایک نے اپنے رب کے حضور واپس لوٹ کر جانا ہے اس لئے یہ گمان کہ دنیا میں ہم غفلت کی حالت میں وقت گزار بھی دیں تو کیا فرق پڑتا ہے یہ بالکل جھوٹ ہے۔اچھی طرح ہوش سے اس بات کوسن لو کہ تم نے لازماً خدا کے حضور جانا ہے اور اس قانون کے ساتھ جاؤ گے کہ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى کہ تمہارا نہ عزیز، نہ رشتے دار، نہ دوست ، نہ کوئی بزرگ، نہ اولاد، کوئی تمہارے کام نہیں آئیں گے۔تمہیں خود اپنا حساب دینا ہوگا ، اپنے معاملات کو خدا تعالیٰ کے حضور رکھنا ہوگا اور اس میں تم پوچھے جاؤ گے۔ثُمَّ إِلى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ اس وقت وہ تمہیں بتائے گا کہ تمہارے اعمال کی کیا حقیقت تھی ہم زندگی میں کیا کرتے رہے اور جن باتوں کو تم اچھا سمجھتے تھے ان کی اصل حیثیت کیا تھی۔اچھی تھی یا بری تھی یہ سارے مسئلے قیامت کے دن حل