خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 94
خطبات طاہر جلد 16 94 خطبہ جمعہ 7 فروری 1997ء سے زیادہ وہ تعداد ہے جن کو نماز پڑھنے کی توفیق تو ہے مگر دوران سال یہ اس توفیق سے فائدہ نہیں اٹھاتے رہے۔کچھ وہ ہیں جو ہمیشہ آنے والے ہیں اور ان کا مسجد سے تعلق ایک دائمی تعلق ہے جو کبھی کٹ نہیں سکتا۔رمضان آئے یا رمضان گزر جائے قطع نظر اس سے وہ اپنے رب سے تعلق رکھتے ہیں جو ہمیشہ رہتا ہے اور اس بناء پر ان کا مساجد سے تعلق ایک داعی تعلق ہے کسی موسم کا محتاج نہیں لیکن جو آج آئے ہیں وہ بھی خدا ہی کی خاطر آئے ہیں اور کئی امنگیں لے کر آئے ہیں۔کئی ان میں سے یہ سوچ کر آئے ہیں کہ شاید یہ ایک ہی جمعہ ہمارے گزشتہ سال کے خلاؤں کو بھر دے۔آج خصوصیت سے ایسے دوستوں کو مخاطب کرتے ہوئے میں نے ان آیات کریمہ کا انتخاب کیا ہے جن کا میں نے ترجمہ ابھی پڑھنا ہے، خاص طور پر میں ان کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔یہ درست ہے کہ بعض دفعہ ایک جمعہ بھی گزشتہ ایک سال ہی کے نہیں گزشتہ تمام عمر کے خلاؤں کو بھر سکتا ہے، ایک لمحہ بھی ایسا کر سکتا ہے، وہ رات بھی جسے لیلۃ القدر کہتے ہیں یہی تو کام کرتی ہے کہ ساری زندگی کے خلاؤں کو بھر دیتی ہے۔مگر اس کی کچھ شرطیں ہیں اور ان شرطوں میں سے سب سے اہم بنیادی شرط اس سورۃ القدر کے آخر پر بیان ہوئی ہے کہ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ (القدر:6) مَطْلَعْ الْفَجْرِ اس کے بعد ضروری ہے۔وہ رات پھر قائم نہیں رہا کرتی اور جو فجر ہے وہ اتنی لمبی ہے کہ ساری زندگی کے لمحوں پر حاوی ہو جاتی ہے۔پس یہ امیدیں بے سود نہیں ، فرضی نہیں ، گمان کی نہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ ایک جمعہ بلکہ چند لمحات بھی انسانی زندگی کے تمام خلاؤں کو بھر سکتے ہیں لیکن ان شرطوں کو پورا ہونا چاہئے جو قرآن کریم نے کھول کھول کر بیان فرمائیں اور محض بخشش پر نظر نہیں بلکہ تو بہ کے تقاضوں کو بھی پورا کرنا چاہئے۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ وہ جو آج کے مہمان ہیں محض آج ہی کے مہمان نہیں رہیں گے بلکہ ہمیشہ کے لئے مساجد سے اپنا تعلق جوڑلیں گے اور جب مساجد سے ان کا تعلق جڑے گا تو لازماً خدمت دین کے مختلف مواقع بھی ان کو میسر آئیں گے اور زندگی پہلے سے بہت بہتر ہو جائے گی۔پس سادہ ،صاف ستھرے لفظوں میں قرآن کریم کی ان آیات کے حوالے سے میں ان کو کچھ نصیحت کرنا چاہتا ہوں۔پہلی بات تو یہ ہے اِنْ تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ وَلَا يَرْضَى لِعِبَادِهِ ۖ الكفر کہ یاد رکھو اگر تم ناشکری کرو یا خدا کا انکار کر دو دونوں صورتوں میں اللہ تو غنی ہے وہ تمہارا