خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 4
خطبات طاہر جلد 16 4 خطبہ جمعہ 3 جنوری 1997ء کی طرف ان کا رخ ہو گیا۔ ان کا ہر آنے والا لمحہ پہلے لمحوں سے بدتر ہوتا چلا گیا اور جب وہ ایک ایسی انتہاء کو پہنچے جس کے بعد پھر ان کو زندہ رہنے کا حق نہ رہا تو پھر خدا تعالیٰ نے ان قوموں کو برباد کر دیا۔ آنحضرت ﷺ ان تمام انسانوں کی صف میں سب سے آگے بڑھے ہوئے ہیں جنہوں اور صلى الله نے ہر لمحہ آگے کی طرف قدم بڑھایا ہے جنہوں نے اس شعوری حق کو استعمال فرمایا اور بہت ہی اعلیٰ طریق پر استعمال فرمایا۔ پس تمام انبیاء اور ان سے پہلے صالحین ، ان سے نچلے طبقے میں صالحین، شہداء صدیقین سبھی وہ ہیں جو ہیں جن کے آنے والے لمحے پچھلے لمحوں سے آگے ہوتے ہیں اور اس مضمون پر گواہی دے کر مرتے ہیں کہ وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ (آل عمران : 94) اے اللہ ہمیں وفات دینا تو نیکوں میں داخل کر کے وفات دینا۔ ادنیٰ حالتوں میں وفات نہ دینا۔ پس گزرے ہوئے وقت کے ساتھ ایک یہ بھی تو مضمون ہے جسے ذہن میں از خود بیدار ہو جانا چاہئے اور اس پہلو سے اپنے سال کا جائزہ لینا چاہئے اور آئندہ سال کے متعلق معین منصوبہ ہونا چاہئے کہ ہم آئندہ کیا کریں گے۔ جہاں تک انفرادی فیصلوں کا تعلق ہے اس کے متعلق یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی تفصیلی بات کی جا سکے کیونکہ ہر انسان کا مقام الگ الگ ہے۔ جیسے میراتھن دوڑ ہوتی ہے تو اگلوں اور پچھلوں کے درمیان میلوں کا فاصلہ بھی ہوتا ہے۔ تو ہمارا جو انسانی مقابلہ ہے وہ صدیوں تک بھی پھیلا پڑا ہے بلکہ ہزاروں سال تک بھی ۔ پس انسان کی اس دوڑ میں جو اجتماعی دوڑ ہے اس میں پہلے درجے کا جو انسان سب سے آگے ہے اس میں اور سب سے پیچھے آگے بڑھنے والے میں، پیچھے ہٹنے والوں کی بات نہیں میں کر رہا ان کا تو رخ ہی بدل گیا ، آگے بڑھنے والوں میں بھی اتنے فاصلے پڑ جاتے ہیں کہ گویا جو سب کہ سے پیچھے ہے وہ اگلے آدمی کے متعلق علم ہی نہیں رکھتا کہ وہ کہاں غائب ہو گیا۔ صلى الله علي پس حضرت اقدس محمد مصطفی ہے جس صراط مستقیم پر چلے ہیں اور چلتے رہے وہ صراط مستقیم ایسی ہے جس کے آخر پر عام آدمی نیکی کی راہوں پر قدم مارنے والے اور گرتے پڑتے آگے بڑھنے والے وہ بھی تو ہیں اور فاصلے بہت ہیں جو صدیوں ، ہزاروں سال کے فاصلے بلکہ اس سے بھی زیادہ بن جائیں گے ۔ اگر روحانی مراتب کو آپ گہری نظر سے دیکھیں تو آنحضرت لی اور ابتدائی نیکی کے سفر کرنے والے کے درمیان یوں معلوم ہوتا ہے کہ لامتناہی فاصلہ ہے، اس کا عام انسان تصور نہیں کر سکتا۔ مگر قدر مشترک کیا ہے۔ اگر قدر مشترک کوئی نہ ہو تو پھر انسان اس نیکی کے رستے پر چلنے کا تصور