خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 991 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 991

خطبات طاہر جلد 15 991 خطبہ جمعہ 27 دسمبر 1996ء سنبھالنے کے لئے بہت بڑی مالی ضروریات در پیش تھیں۔کیونکہ انہی میں سے مبلغ نکالنا، ان کی تربیت کے سامان کرنا ، ان کو جگہ جگہ جلسوں کے ذریعہ اور تربیتی کلاسز کے ذریعہ اس دین کی تفصیل سمجھانا جس کو عموماً بغیر سمجھے عامتہ الناس قبول کرتے ہیں اور یہ معاملہ صرف احمدیت کے لئے خاص نہیں دنیا کے ہر مذہب کا یہی حال ہے۔عامتہ الناس عموما ایک عقیدے کو تسلیم کر لیتے ہیں۔بعض نشانات کو دیکھ کر ، بعض رجحانات کو دیکھ کر اور بعض دفعہ آسمان سے ایسے تائیدی نشان ظاہر ہور ہے ہوتے ہیں جن کو دیکھنے سے وہ یقین کر لیتے ہیں کہ یہ سچا سلسلہ ہے مگر اس کے عقائد کی تفصیل، اس پر عمل کرنے کے جو طریق ہیں ان سے بسا اوقات ناواقف رہتے ہیں۔اسی لئے قرآن کریم نے وہ نظام جاری فرمایا کہ اپنے مرکز میں پہلے مختلف قوموں کے نمائندوں کو بلاؤ جو مسلمان ہو چکے ہیں۔ان کو بلاؤ ، ان کو وہاں ٹھہراؤ، ان کی تعلیم و تربیت کرو اور پھر واپس بھیجو تا کہ وہ اپنے اپنے مقامات پر جا کر خدمت دین کا کام بہتر طریق پر سر انجام دے سکیں۔یہ ضروریات تھیں جن کے لئے خدا تعالیٰ نے مغربی جماعتوں کو یعنی آزاد ایسے ملکوں کو جو نسبتاً ترقی یافتہ ہیں ان کو بھی اس تحریک میں شمولیت کی توفیق بخشی اور اللہ تعالیٰ نے اس کے بہت ہی اعلیٰ پھل ہمیں دکھائے اور ایسے جن کا ہمارے ذہن میں کہیں دور کے گوشوں میں بھی کوئی تصور نہیں تھا لیکن اس کی تفصیل میں جانے سے پہلے میں قرآن کریم کی ان آیات کا ترجمہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں اور مختصراً ان کے مضامین کو آپ کے سامنے کھولنے کی کوشش کروں گا۔اِنَّ الْمُصَّدِقِيْنَ وَالْمُصَّدِقتِ یقینا صدقہ دینے والے اور صدقہ دینے والیاں۔وَاَقْرَضُوا اللهَ قَرْضًا حَسَنًا یعنی وہ لوگ جن کے صدقہ سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کی خاطر اللہ کو قرضہ حسنہ کے طور پر کچھ دیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کے متعلق فرمایا ضُعَفُ لَهُمْ ان کے لئے بڑھایا جائے گا، کیا بڑھایا جائے گا یہ بات مہم چھوڑ دی گئی ہے اور یہ مہم چھوڑ نا دوطریق پر ہوا کرتا ہے۔بعض لوگ جن کی نیتیں خراب ہوں وہ مجمل وعدہ کر دیا کرتے ہیں، مبہم سا وعدہ کر لیتے ہیں تا کہ ہم پھر پکڑے نہ جائیں۔جب نہ پورا کرنے کو دل چاہے تو کہتے ہیں ہم نے یہی کہا تھا نا کہ کچھ دیں گے تو کچھ دے دیں گے، یہ کب کہا تھا کہ کب دیں گے اس لئے کوئی مطالبہ نہ کرو ہم سے۔مگر جو کریم ہو، جو بے انتہا احسان کرنے والا ہو وہ جب مجمل وعدہ کرتا ہے تو مراد یہ ہے کہ اس سے