خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 986 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 986

خطبات طاہر جلد 15 986 خطبہ جمعہ 20 /دسمبر 1996ء ہو سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مضمون میں جماعت کو ایک نصیحت فرماتے ہیں اور باقی اقتباسات پڑھنے کا چونکہ وقت نہیں ہے میں اسی نصیحت کو پڑھ کر ، آپ کو سمجھا کر اس خطبہ کو ختم کرتا ہوں۔تم آپس میں جلد صلح کرو اور اپنے بھائیوں کے گناہ بخشو کیونکہ شریر ہے وہ انسان کہ جو اپنے بھائی کے ساتھ صلح پر راضی نہیں وہ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ تفرقہ ڈالتا ہے۔۔۔“ اب آپ کو میں نے پہلے شروع میں ہی بتایا تھا کہ سارے نظام جماعت پر ، دنیا کے مختلف ملکوں پر نگاہ ڈالتے ہوئے میں یقین کے ساتھ آپ کو بتاتا ہوں کہ دلوں کی سختی نے فساد بر پا کر رکھا ہے، گھر اجاڑ دئے ہیں، جماعتیں برباد کر دی ہیں۔جن جماعتوں میں بھی ایسے چند پتھر دل لوگ آگئے انہوں نے سارے نظام جماعت کا ستیا ناس کر دیا۔بعض سالہا سال سے سنبھلتے ہی نہیں کیونکہ ان میں چند لوگ سخت دل ہیں اور اس کے نتیجہ میں بعض دفعہ ان کی امارتیں ختم کرنی پڑیں۔ان سے ووٹ دے کر اپنے عہدیداروں کا انتخاب کرنے کا حق بھی لے لیا گیا۔مربی مقرر کئے گئے ، دوسرے بھیجے گئے، مجال ہے جو ٹس سے مس ہوں کیونکہ سخت دل ہر فاسق سے بدتر ہوتا ہے ان کے دلوں کی سختی نے تفرقہ ڈال دیا ہے اور یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں وہ جو صلح پر راضی نہیں ہوتا وہ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ تفرقہ ڈالتا ہے۔وو۔۔تم اپنی نفسانیت ہر ایک پہلو سے چھوڑ دو اور باہمی ناراضگی جانے دو اور بچے ہو کر جھوٹے کی طرح تذلیل اختیار کرو تا تم بخشے جاؤ۔۔۔“ پھر فرماتے ہیں:۔”۔۔۔نفسانیت کی فربہی چھوڑ دو کہ جس دروازے کے لئے تم بلائے گئے ہو اس میں سے ایک فربہ انسان داخل نہیں ہوسکتا۔۔۔“ قریب کے تعلق میں میں نے آپ کو سمجھایا تھا کہ جو قریب ہے وہ تکبر سے دور ہے۔جو قریب نہیں ہے وہ اسی حد تک متکبر ہو جاتا ہے اور تکبر کے متعلق جو تمثیل ہے وہ فربہی کی تمثیل ہے کہ جتنا تکبر ہو گا اتنا ہی گویا موٹا ہو گا لیکن جن راہوں سے جنت کی طرف بلایا جاتا ہے وہ باریک راہیں ہیں۔ان سے اس قسم کا پھولا ہوا، اپنے تکبر میں متورم ہوا ہوا شخص داخل ہو ہی نہیں سکتا۔فرماتے ہیں تم فر یہی ا