خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 987 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 987

خطبات طاہر جلد 15 987 خطبہ جمعہ 20 /دسمبر 1996ء چھوڑ دو، ہر ایک پہلو سے چھوڑ دو کہ جس دروازے کے لئے تم بلائے گئے ہواس میں سے ایک فربہ انسان داخل نہیں ہوسکتا۔۔۔۔کیا ہی بد قسمت وہ شخص ہے جو ان باتوں کو نہیں مانتا جو خدا کے 66 منہ سے نکلیں اور میں نے بیان کیں۔۔۔“ اس سے زیادہ پر شوکت کلام آپ کو سمجھانے کے لئے اور کیا ہوسکتا ہے۔فرماتے ہیں بد نصیب وہ شخص ہے جو ان باتوں کو نہیں مانتا جو خدا کے مونہہ سے نکلیں اور میں نے بیان کیں یعنی کلام الہی ہے جو میری زبان پر جاری ہوا ہے۔پھر فرماتے ہیں۔وو۔۔تم اگر چاہتے ہو کہ آسمان پر تم سے خدا راضی ہو تو تم با ہم ایسے ایک ہو جاؤ جیسے ایک پیٹ میں سے دو بھائی۔۔۔اب آپ دیکھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کم سے کم بھائیوں سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو ایسا پیار دیں کہ ان کی مثال دی جا سکے۔آج کل تو بھائی بھائی سے ایسا لڑتا ہے اور جائیدادوں کی خاطر ایسے تصرفات کرتا ہے اور بعض دفعہ ایسی ظالمانہ کارروائیاں کرتا ہے کہ بھائی کے علم کے بغیر پٹواریوں سے مل کر جائیداد کے انتقال بھی کروا بیٹھتا ہے۔تو اب یہ مثال آپ کو کیسے سمجھ آئے گی ، جیسے ماں کے پیٹ سے نکلے ہوئے دو بھائی۔مراد ہے اچھے وقتوں کی بات ہو رہی ہے جب بھائی واقعی بھائی ہوا کرتے تھے تو اب ویسا بننا ہوگا آپ کو۔ان بھائیوں کی مثال لو جو حقیقت میں فرشتہ سیرت بھائی ایک دوسرے کی خاطر اپنے حقوق قربان کرنے والے ہوتے ہیں۔فرماتے ہیں:۔”۔۔۔ایک پیٹ میں سے دو بھائی۔تم میں سے زیادہ بزرگ وہی ہے جو زیادہ اپنے بھائی کے گناہ بخشتا ہے اور بد بخت ہے وہ جو ضد کرتا ہے اور نہیں بخشتا سو اس کا مجھ میں حصہ نہیں۔۔۔“ کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ: 12,13) یہ نصیحت بیان کرنے کے بعد، میں پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اور اقتباس ابھی پیش کر دیتا ہوں تا کہ اس عرصے میں اگلے خطبات سے پہلے کوئی غلط فہمی کا شکار نہ ہو کہ عفو