خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 979
خطبات طاہر جلد 15 979 خطبہ جمعہ 20 /دسمبر 1996ء ہے اس کو مگر بے محل نہیں ہوتا اور اکثر شفقتیں اس کی تکلیفوں پر پردے ڈال دیتی ہیں اور اتنا کہ گویا اسے تکلیف ہوتی ہی نہیں تو اللہ کی پناہ میں آنے کا ایک یہ بھی مطلب ہے۔فَاسْتَعِذْ بِاللہ کا یہ بھی مضمون ہے جسے آپ سمجھیں کہ جب آپ خدا کی پناہ مانگتے ہیں خدا سے تو خدا وہ پناہ دیتا ہے اور جب پناہ دیتا ہے تو بہت سی تکلیف کے مواقع سے آپ بیچ نکلتے ہیں۔لوگوں میں ہیجان پیدا ہورہا ہے، لوگوں کے جذبات میں ایک قیامت برپا ہوگئی ہے آپ بڑے سکون کے ساتھ انہی چیزوں کو دیکھتے ہیں اور ایسے پیار اور محبت سے برائی کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو گہرا اثر دکھاتی ہے۔پھر یہ بات ڈول بہا دو “ فرما کر آپ نے فرمایا تمہیں آسانی پیدا کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے تنگی پیدا کرنے کے لئے نہیں۔اے امت مسلمہ ! تم بنی نوع انسان کی آسانی کے لئے پیدا کئے گئے ہوان کے لئے سہولتیں پیدا کروان کے لئے تنگیاں پیدا نہ کرو۔پس نیکی کے تعلق میں جو سچا رد عمل ہے وہ برائی کا ایسا ازالہ نہیں جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچے۔سزاؤں پر زور نہیں ہے بلکہ پیار اور محبت اور شفقت سے اصلاح پر زور ہے اور یہ طریق حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ سے بڑھ کر دنیا میں کوئی نہیں سمجھا سکتا تھا، نہ کبھی کسی نے سمجھایا۔تمام انبیاء کی کہانی آپ پڑھ لیں یہ شان، یہ شوکت، یہ پیار، یہ حسن کہ مکارم الاخلاق پر قدم ہو جہاں باقیوں کے صلى الله اخلاق اپنی انتہاؤں کو پہنچ کر ٹھہر گئے اس پر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے قدم پڑے ہوئے تھے اس سے اونچے تھے یہ چیزیں سیکھیں گے تو پھر خدا تعالیٰ کے فضل سے اپنے گھروں کی اصلاح کی بھی توفیق ملے گی اور بنی نوع انسان کی اصلاح کی بھی توفیق ملے گی اس کے بغیر ممکن نہیں ہے۔حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہیں بتاؤں کہ آگ کس شخص پر حرام کر دی گئی ہے۔کیسا عجیب انداز ہے سوال کا کیونکہ انسان کے اعمال کی درستی میں جہنم کا خوف بھی بہت اہم کردار ادا کرتا ہے بلکہ امرواقعہ یہ ہے کہ اگر آپ اپنے نفس کا ہمیشہ جائزہ لیں اور گرد و پیش کا جائزہ لیں تو جنت کی تمنا آپ کے اخلاق کی درستی بھی نسبتاً بہت ہی کم اثر رکھتی ہے لیکن جہنم کا خوف بہت زیادہ اثر رکھتا ہے انذار ہے جسے ایک غلبہ حاصل ہوتا ہے اور آنحضرت ﷺ نے اسی حوالے سے بات فرمائی کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جس کے نتیجہ میں آگ حرام ہو جاتی ہے صحابہ نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ ﷺ آپ نے فرمایاوہ حرام ہے ہر اس شخص پر جولوگوں کے قریب ہے۔صلى الله