خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 978 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 978

خطبات طاہر جلد 15 978 خطبہ جمعہ 20 /دسمبر 1996ء اب اس میں حلم بھی ہے اور یہ بھی ہمیں سمجھایا گیا ہے کہ رد عمل جب ایک دفعہ ایک چیز کا غلط شروع ہو جائے تو پھر اس پر قابو پانا واقعی مشکل ہوتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کے زیر تعلیم ، زیرتربیت صحابہ جو آپ سے نئے اخلاقی رنگ سیکھ رہے تھے ان کے اندر جب غصے کی حالت پیدا ہوئی ہے تو قابو نہیں رہا اور بہت کم لوگ ہیں جن کو غصے کی حالت پر قابو کا اختیار ہوتا ہے لیکن اگر آپ کوشش کریں تو پھر ان حالتوں میں غلط ردعمل پیدا ہی نہیں ہوتا۔اس چیز کو رسول اللہ ﷺ بھی دیکھ رہے تھے بڑے آرام سے فرمایا، پانی بہادو اور اس کے بغیر حل تھا بھی کچھ نہیں۔اگر ایسے آدمی کو مارا جاتا، اس کو ذلیل کیا جاتا اور اسے گالیاں دی جاتیں، دھکے دے کر باہر نکال دیا جاتا وہ پیشاب کیسے صاف ہوجاتا وہ گند تو اسی طرح رہنا تھا۔تو فرمایا حکمت سے اس چیز کے ازالے کی کوشش کرو جو بدی ظاہر ہوگئی ہے بجائے اس کے کہ سزاؤں کی طرف دوڑ واور وہ سزائیں جائزہ اس لئے نہیں کہ ایک آدمی کی غافل نہ حالت کے نتیجے میں ایک جرم ہوا ہے۔یہ بھی ایک بہت اہم بات ہے کہ ہر بدی کا فعل ہر شخص سے ایک طرح صادر نہیں ہوتا۔بعض لوگ شرارت کی رو سے، گزند پہنچانے کی خاطر یا ذلیل کرنے کی خاطر یا اور کئی طریقے سے غیرت اکسانے کی خاطر بعض کام کرتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے اس شخص پر نظر کی آپ جانتے تھے کہ سادہ آدمی ہے، بے وقوف ہے بے چارہ، اس کو پتا ہی کچھ نہیں صفائی ہوتی کیا ہے، اس کو یہ بھی نہیں پتا کہ احترام کے کیا تقاضے ہیں ایسے شخص کو مارنا بالکل لغو اور بے ہودہ بات ہے۔ایک اور موقع پر مسجد میں ایک شخص نے نماز کی حالت میں کسی غلطی کی طرف توجہ دلانے کے لئے اپنی رانوں پر زور زور سے ہاتھ مارنے شروع کئے اور ایسی حالت میں شور ڈال دیا رانوں پہ ہاتھ مار مار کے وہ تماشہ سا ہو گیا۔صحابہ کہتے ہیں جب نماز ختم ہوئی ہمارا یہ حال تھا کہ ہماری آنکھوں سے شعلے برس رہے تھے اس کو دیکھتے ہوئے۔وہ کانپ رہا تھا مگ محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف جب نگاہ پڑی ہے ساری فکریں دور ہو گئیں، سب غم دھل گئے ، کتنے پیار سے دیکھ رہے تھے اس کو ، اس محبت اور اس شفقت کے ساتھ فرمایا بھی اس طرح نہ کیا کرو جب کوئی غلطی دیکھو سبحان اللہ پڑھا کرو۔اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا۔(ماخوز از صحیح مسلم ، کتاب المساجد و مواضع الصلوۃ ، باب تحریم الکلام فی الصلواۃ۔۔۔) تو وہ شخص جس کی آزمائش مختلف قسم کی تکلیفوں کے ذریعے ہوتی رہتی ہے اور اس کا رد عمل خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو جاتا ہے جس کا رد عمل خدا کے تابع اپنے رنگ نکالتا ہے کبھی غصہ بھی آتا