خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 977
خطبات طاہر جلد 15 977 خطبہ جمعہ 20 /دسمبر 1996ء غصہ آتا ہے اس کو غصہ آتا ہی نہیں اور یہ شیطان اس طرح مٹتا ہے جب آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ میراشیطان مسلمان ہو گیا ہے تو یہ مراد تو نہیں کہ ہر وقت نفس امارہ سے لڑائی ہورہی ہے ہر وقت رسول اللہ کے دل سے ایک غصے کا جذبہ اٹھتا ہے اور پھر آپ اس سے لڑتے ہیں اور اسے زیر کر لیتے ہیں۔یہ تو ابتدائی سفر ہے مومنوں کو سکھانے کے لئے۔وہ شخص جو اس میں کامیاب ہوتا ہے اس کی کامیابی کی علامت یہ ہے کہ جن عام جگہوں پر لوگوں کو غصہ آ جاتا ہے اسے آتا ہی نہیں اور حلم اس سے پیدا ہوتا ہے۔کئی دفعہ جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا گھر میں معمولی سا نقصان ہو جاتا ہے اور بعض لوگ بھڑک اٹھتے ہیں شور پڑ جاتا ہے یہ کیا ہو گیا اس نے فلاں چیز تو ڑ دی، یہ نقصان پہنچا دیا۔جن کو خدا تعالیٰ غصہ ضبط کرنے کی توفیق عطا فرما دیتا ہے رفتہ رفتہ ان میں حلم پیدا ہو جاتا ہے ان میں کسی قسم کا کوئی اشتعال پیدا ہی نہیں ہوتا بڑے سکون کے ساتھ ، آرام سے انہی چیزوں کو دیکھ رہے ہیں جس کے نتیجہ میں دوسرے دلوں میں ہنگامے برپا ہور ہے ہوں۔حیرت سے دیکھتے ہیں ان کو ہو کیا گیا ہے پاگلوں کو سمجھاتے ہیں بس کرو خدا کا خوف کرو، ہو کیا گیا ہے چھوٹی سی چیز ضائع ہوئی ہے ایک برتن ٹوٹا ہے اس کے مقابل پر تم دل تو ڑ دو گے اور ہمیشہ کے لئے تو ڑ دو گے۔تو یہ وہ مضمون ہے جو آنحضرت ﷺ کی نصائح اور سیرت سے مکمل ہوتا ہے ایک موقع پر ، یہ بھی بخاری ہی کی روایت ہے ، حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی بدو الله مسجد نبوی میں آکر پیشاب کر گیا یا کر رہا تھا لوگ پہنچے وہ رسول اللہ ﷺ بھی دیکھ رہے ہیں صحابہؓ بھی دیکھ رہے ہیں۔اس میں جہالت کی یہ حالت تھی اس کی کہ ان کے سامنے بیٹھا ایک طرف مسجد نبوی میں پیشاب کر رہا ہے جہاں لوگ نماز پڑھتے ہیں۔صحابہ بیان کرتے ہیں یہ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ یوں کھڑے ہوئے جیسے اس پر بھر کر ٹوٹ پڑیں گے اس کے ٹکڑے اڑا دیں گے اس قدران کو طیش آیا اور پھر خصوصا رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں یہ فعل تو ان کے جذبات میں ایک غیر معمولی اشتعال پیدا کر گیا۔آنحضرت ﷺ اس طرح بغیر کسی تحریک دل کے، بغیر کسی گھبراہٹ کسی بے چینی کے کسی رد عمل کے اس طرح کھڑے کے کھڑے رہے۔فرمایا یہ کیا کر رہے ہو چھوڑو اس کو۔ایک یا دو ڈول پانی کے بہا دو، تمہارا جو گند ہے وہ صاف ہو جائے گا۔(صحیح بخارى كتاب الأدب، باب قول النبي يسروا ولا تعسروا )